دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 31
31 28- خاکسار ایک بار چند خدام کے ساتھ راجہ بازار راولپنڈی کے ایک دیو بندی کتب خانہ پر گیا اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ( وفات ۱۸۸۰ء) کی عظمت شان اور جلالت مرتبت کا ذکر کرنے کے بعد آپ کی تصانیف حاصل کرنے کی درخواست کی۔کتب خانہ کے مہتمم ایک عالم دین تھے۔جنہوں نے سب موجود کتب میرے سامنے رکھ دیں جن میں سے میں نے چند انتخاب کر کے اُن کی منہ مانگی قیمت ان کے ہاتھ پر رکھ دی۔حضرت مولانا قاسم سے اخلاص وعقیدت کے باعث انہوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو نہایت محبت سے چائے پلائی۔حالانکہ میں نے سلام کے بعد یہ واضح کر دیا تھا کہ میں ربوہ سے حاضر ہوا ہوں اور میرا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔واپسی پر مہتمم صاحب کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی کتاب ” تحذیر الناس' (جو انہی سے چند منٹ قبل خریدی تھی) کھول کر سامنے رکھ دی اور انہیں یقین دلایا کہ ختم نبوت“ سے متعلق جماعت احمدیہ کا وہی مسلک ہے ایک صدی قبل حضرت مولانا نے پیش کیا تھا۔یعنی آیت خاتم کے معنی ”آخری نبی، عوام کرتے ہیں اور اصل مفہوم اس منصب عالی کا یہ ہے کہ باقی نبی امتیوں کے باپ تھے اور محمد رسول اللہ خاتم النبین نبیوں کے بھی باپ ہیں۔اس لیے آپ کے بعد امت میں کوئی نبی پیدا بھی ہو جائے تو ختم نبوت پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔نیز آئمہ اہل سنت کے نزدیک النبين بھی اب جو نبی آئے گا فقط شریعت محمدیہ کی اشاعت کے لیے آئے گا۔خاکسار نے مری روڈ کی بیت الذکر میں پہنچ کر خدام سے کہا کہ آپ کو شکایت تھی کہ راولپنڈی کے علماء متعصب ہیں جو کوئی کلمہ حق نہیں سنتے لیکن اب آپ نے دیکھ لیا کہ یہاں بعض ایسے شریف علماء بھی موجود ہیں جو نہ صرف ربوہ سے آنے والوں کو چائے پلاتے بلکہ ختم نبوت“ جیسے حساس موضوع پر نہایت غور سے ہماری بات بھی سنتے ہیں۔ضرورت قرآنی حکم کے مطابق حکمت اور 66 موعظہ حسنہ کی ہے۔29- " تاریخ احمدیت کی تیسری جلد کی نفیس کتابت جناب شاہ محمد صاحب خوشنویس مقیم چھانگا مانگا ضلع لاہور ) کی مرہون منت ہے۔خاکسار ۱۹۵۹ء کے آخر میں کتابت کا جائزہ لینے کے لیے اُن کے پاس گیا۔آپ کی قیام گاہ کے قریب معزز بریلوی دوستوں کی مسجد تھی جہاں اگلے دن صلى الله نماز فجر کے بعد ایک رضوی‘ عالم نے وعظ شریف فرمایا کہ محبوب خدا آنحضرت معه مع