دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 30
30 -26۔کسی علمی مجلس میں ایک بریلوی بزرگ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کہنے کی نسبت تمہارا کیا نظریہ ہے۔خاکسار نے بتایا کہ آنحضرت مہ کو حاضر ناظر سمجھ کر نہیں بلکہ اپنے باطنی عشق و فدائیت کے اظہار کے لیے ”یا رسول اللہ کہنا ہمیشہ عشاق رسول کی پہچان رہی ہے۔چنانچہ حضرت مولانا جامی رحمتہ اللہ علیہ نے تو اپنی فارسی نعت میں گیارہ بار یا رسول اللہ کے الفاظ ردیف میں استعمال فرمائے ہیں۔ان کی شہرہ آفاق نعت کا مقطع یہ ہے۔چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گناہگاراں مکن محروم جامی را در آن یا رسول الله فداك ابی و امى يارسول الله الا الله 27۔جماعت احمدیہ کراچی کے زیر اہتمام مارٹن روڈ میں ایک جلسہ عام خلافت رابعہ کے عہد میں منعقد ہوا۔خاکسار کی تقریر کے دوران ایک اہلحدیث فاضل کی مجھے یہ چٹ پہنچی کہ تم نے حديث "لولاك لما خلقت الافلاك" سنائی ہے۔صحاح ستہ میں اس کا حوالہ بھی پبلک کو بتادیجیے۔میں نے عرض کیا کہ قرآن مجید نے ہر مسلمان کو آنحضرت میں اللہ کے ہر ارشاد کی تعمیل کا حکم دیا ہے۔(وَمَا اتكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ الحشر : ٨، أَطِيعُو الله وَالرَّسُولَ آل عمران : ۱۳۲) میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ جلشانہ نے کہیں یہ بھی قید لگائی ہے کہ مسلمانو حدیث وہی ماننا جو آنحضرت ﷺ کے کئی سو برس بعد صحاح ستہ میں درج ہو اور اگر اولیاء امت اور بزرگان اسلام کی صر کتابوں میں درج ہو تو اسے حقارت سے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا ؟ میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید نے اس حدیث کے مضمون کی ایسی تصدیق فرمائی ہے کہ دن چڑھا دیا ہے۔چنانچہ سورہ نجم میں دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ" کے ذریعہ آنحضرت کو خدا سے کامل قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں وتر قرار دیا گیا ہے۔قوس عربی نعت میں کمان کو کہتے ہیں۔جب دو قومیں اکٹھی کر دی جائیں تو مکمل دائرہ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور جیومیٹری کا مسلّمہ قاعدہ ہے کہ جب تک مرکزی نقطہ فرض نہ کیا جائے دائرہ بن ہی نہیں سکتا۔پس جب دائرہ کا ئنات کے آنحضرت ہی نقطہ مرکز یہ قرار پائے تو حدیث لولاك لما خلقت الافلاك کا کوئی سچا مسلمان کیونکر منکر ہوسکتا ہے۔این ہو CAN