دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 29
29 25- ۳ ر ا پریل سے ۳۱ رمئی ۱۹۹۰ ء تک میں اپنے دوسرے آٹھ اسیران راہ مولی کے ساتھ گوجرانوالہ سنٹرل جیل میں رہا۔ہمیں پہلے روز قید خانہ کے ایک وسیع کمرہ میں رکھا گیا جو قیدیوں سے بھرا ہوا تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ یہاں جو صاحب نمازیں پڑھاتے ہیں وہ غالبا تیسری چوتھی بار اغوا کے کیس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ہم احمدیوں نے الگ نماز پڑھی اور پھر مختلف تبلیغی مسائل پر گفتگو کرنے لگے۔ایک شریف النفس اہل حدیث نوجوان میرے قریب بیٹھا نہایت عقیدت سے میری باتیں سن رہا تھا کہ یکا یک اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کس جرم کی پاداش میں یہاں پہنچے ہیں؟ میں نے کہا میاں آپ اپنے اہم سوال کے جواب سے پہلے مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے ہدیہ نعت کے چند اشعار سناؤں۔نوجوان نے کہا بڑے شوق سے۔جس پر خاکسار نے یہ نظم خوش الحانی سے پڑھی: مولا میری بگڑی ہوئی تقدیر بنانے والے عرش تک جلوہ دکھانے والے فرش تیرے احسانوں کا ہو ہم غریبوں کو محمد ارض بھلا کیسے ادا ملانے والے یثرب تیری عظمت یہ ہیں افلاک جھکے شاہ لولاک کو سینے بسانے والے اک نظر شاہد تشنہ کی طرف بھی آقا آپ کوثر سے بھرے جام پلانے والے یہ شعر پڑھنے کے بعد میں نے نوجوان کو بتلایا کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کے خلاف گوجرانوالہ کے علماء صاحبان نے ایف آئی آر درج کرائی تھی کہ یہ سب گستاخ رسول ہیں۔انہیں پھانسی کے تختہ پرلٹکا دینا چاہیے۔رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانہ میں (اکبر الہ آبادی)