دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 20
20 15- ۱۹۶۳ء میں راقم الحروف ” تاریخ احمدیت“ عہد خلافت اولیٰ کی معلومات کی تلاش او میں بذریعہ ریل بھیرہ گیا۔میرے کمرہ میں بریلوی اور دیوبندی علماء میں آنحضرت ﷺ کے نور اور بشر ہونے کی بحث چھڑ گئی۔قریب تھا کہ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچتی ، ایک نوجوان نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا یہ صاحب بھی عالم دین معلوم ہوتے ہیں ان کی رائے بھی معلوم کر لی جائے۔اس معقول تجویز پر یکا یک فضا بدل گئی اور تمام لوگ میری طرف متوجہ ہو گئے۔میں نے اپنا نقطہ نگاہ یہ پیش کیا کہ ہمارے آقا محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاعلی نوری بشر تھے اس لیے کہ نور تو جبریل بھی تھے مگر معراج رسالت میں نور محمدی نور جبرائیل سے آگے بڑھ کر عرش عظیم تک پہنچ گیا۔وجہ یہ کہ نور محمدی نور بشریت کے جلوہ سے بھی منور تھا۔میں نے دونوں مکتبہ فکر کے علماء کرام سے دردمندانہ اپیل کی کہ قرآن مجید نے آنحضرت کو صرف نور نہیں سراج منیر قرار دیا ہے یعنی نور پھیلانے والا سورج۔چنانچہ آنحضور کی قوت قدسیہ نے تمام صحابہ ، خلفاً اور اولیائے امت کو نور بنا دیا۔اسی طرح سرکار مدینہ کو تیس " کا لقب بھی عطا ہوا ہے جس کے معنی سید البشر کے ہیں۔پس میں درخواست کروں گا بریلوی حضرات آنحضرت ع کو سراج منیر سے موسوم کیا کریں اور اہل حدیث اور دیوبندی بزرگ "یس" (یعنی سید البشر ) يس کے خطاب سے یاد فرمائیں۔اس طرح امت مرحومہ انتشار سے بچ جائے گی اور سب غیر مسلموں کو مسلمان بنانے میں سرگرم عمل ہو جائیں گے۔میرے خیالات کا کبھی پر گہرا اثر ہوا۔بعد ازاں میں نے بتایا کہ یہ عاجز جماعت احمدیہ سے وابستہ ہے۔اس وقت میں نے ان کی آنکھوں سے اندازہ لگایا کہ اُن کے دل میرے لیے جذبات تشکر سے لبریز ہیں۔فالحمد للہ۔صلى 16 - سید نا محمود حضرت مصلح موعود کے عہد مبارک کے آخری دور کا واقعہ ہے جبکہ حضرت سیدی مرزا ناصر احمد صاحب نے مجھے جلسہ سالانہ کے لیے پرالی فراہم کرنے کی غرض سے تحصیل حافظ آباد بھجوایا۔میں شام کو حافظ آباد سے بذریعہ ٹا نگا کولو تارڑ پہنچا۔جہاں قصبہ کے رئیس اعظم چوہدری محمد فیروز صاحب تارژ جماعت کے پریذیڈنٹ تھے۔اگر چہ آپ اس وقت بستی میں نہ تھے مگر ان کی حویلی میں اُن کے بعض عزیز مجلس لگائے بیٹھے تھے۔وہیں ایک اہل حدیث عالم