دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 19
19 بوچھاڑ کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ان کے چہروں سے نفرت و حقارت صاف ٹپک رہی تھی۔میں نے کھڑے ہو کر کالج کے اساتذہ اور طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں عالمگیر جماعت احمدیہ کا ایک ادنی ترین چاکر ہوں۔اس وقت میرا پہلا پیغام تو دنیا بھر کے مسلمان بھائیوں کے نام ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے رسول محمد مصطفی عمل اللہ کا یہ اسوہ مشعل راہ کے طور پر پیش نظر رکھیں کہ آپ نے فتح مکہ پر ہزاروں رشدیوں کو معاف کر دیا تھا۔یہ الفاظ سن کر طلبا نے اپنے قلم میزوں پر رکھ دیے اور بڑی دلچسپی کے ساتھ میری انگلی بات سننے کو تیار ہو گئے۔التم۔میں اپنے ساتھ بائبل کے انگریزی، عربی اور نارویجین زبان کے کئی ایڈیشن لے گیا تھا جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بائبل استثنا باب ۳۳ میں حضرت موسی کی یہ پیشگوئی خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قد دسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت اُن کے لیے تھی۔“ ( آیت ۳) میں نے بتایا اس پیشگوئی میں فاران سے مراد مکہ ہے اور دس ہزار قد وسی وہ صحابہ ہیں جو فتح مکہ کے موقع پر آپ کے ہمرکاب تھے اور آتشی شریعت قرآن مجید ہے۔اس مختصر تشریح کے بعد میں نے زور دار الفاظ میں کہا کہ : پس میرا دوسرا پیغام آپ سب کے لیے یہ ہے کہ اگر آپ بچے مسیحی بننا چاہتے ہیں تو حضرت موسیٰ کی اس پیشگوئی پر ایمان لا کر بانی اسلام کے جھنڈے تلے آجائیں۔آخر میں خاکسار نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ بجائے اس کے کہ مسیحی سکالر اور مذہبی رہنما اس پیشگوئی کے مطابق مسلمان ہو جاتے انہوں نے بائبل کے نئے ایڈیشنوں میں دس ہزار کی بجائے لاکھوں کر دیا ہے اور ایک ایڈیشن میں جو میرے پاس اس وقت موجود ہے، پوری آیت ہی خارج کر دی گئی ہے۔اس مختصر تقریر کے بعد سوال و جواب کا وقت مقرر تھا۔مگر اس وقت تو سب طلبا پر گویا سکوت مرگ طاری ہو گیا۔یہ دیکھ کر کالج کے معزز اسٹاف نے میرا شکریہ ادا کیا اور پُر تپاک طریق سے مجھے اور ترجمان طالبہ کو الوداع کیا۔