دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 18
18 خاتم الانبیا محمد مصطفی ( علیہ 13- 1990 ء میں اور میرے آٹھ مخلص ساتھی ” تلونڈی موسیٰ خان سے کیس میں ماخوذ تھے۔محترم مکرم خواجہ سرفراز احمد صاحب ایڈووکیٹ جیسے عاشق احمدیت ہمارے وکیل تھے۔ہم لوگ گوجرانوالہ کی سیشن کورٹ میں پیشی کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ شہر کے عربی مدارس کے کئی طلبہ اور بعض دیگر شرفا بھی ہمارے پاس آ کے بیٹھ گئے۔ایک صاحب نے سوال کیا کہ معراج جسمانی تھا کہ روحانی ؟ پہلے تو میں نے انہیں آنحضرت کی یہ حدیث سنائی کہ سوال علمی خزانہ کی چابی ہے۔( در منشور للسیوطی جلد ۲ صفحہ ۶۹ ) پھر اُن کا شکریہ ادا کر کے یہ جواب دیا کہ معراج جسمانی تھا مگر نورانی جسم کے ساتھ۔اگر مادی صورت میں ہوتا تو اس وقت اتنی بڑی مسجد اقصیٰ کا ہونا ضروری ہے جس میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں نے آنحضور کی امامت و سیادت میں نماز پڑھی لیکن تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ موجودہ مسجد اقصیٰ ولید بن عبدالمالک نے تعمیر کرائی۔ایک حدیث میں یہ بھی لکھا ہے کہ شب معراج میں حضور اقدس کو عرش پر قیامت تک ہونے والی پوری امت کا نظارہ دکھایا گیا جو آفاق پر محیط تھی۔پس جو شخص معراج کو مادی قرار دیتا ہے اُسے یہ بھی مانا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ تو بعد میں عرش پر تشریف لے گئے لیکن پوری امت آپ سے پہلے ہی آسمان پر موجود تھی۔اس سوال نے گویا مجلس پر ایک لرزہ طاری کر دیا۔پھر کسی کو کچھ کہنے کی جرات نہ ہوسکی۔میں نے اس موقع پر یہ بھی بتایا که معراج دراصل آنحضرت کے مقام ختم نبوت کی عملی تفسیر ہے جس میں آپ کو کشفی طور پر مشاہدہ کرایا گیا کہ آپ جملہ نبیوں کے امام ہیں اور جہاں دوسرے نبیوں کے مقامات ختم ہوتے ہیں وہاں سے آپ کا مقام شروع ہوتا ہے۔اللھم صل على محمد وآل محمد۔-14۔جس دن ناروے میں بدنام زمانہ شاتم رسول رُشدی کی کتاب کے نارویجن ترجمہ کی تقریب رونمائی تھی ، اتفاق یہ ہوا کہ اوسلو کے ایک مقامی کالج نے عین اس روز مجھے خطاب کرنے کی دعوت دی۔اس دن ناروے میں مسلمانوں کے خلاف شدید اشتعال پھیلا ہوا تھا۔محترم جناب امیر صاحب ناروے نے ترجمانی کے لیے ایک احمدی طالبہ میرے ساتھ کی اور میں عین وقت پر کالج ہال میں پہنچ گیا۔میں نے دیکھا کہ کالجیٹ طلبا اور طالبات تیز سوالوں کی