دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 16
16 کلام اللہ میں موجود ہیں۔چنانچہ المائدہ اور سورہ یوسف کی معین آیات ملاحظہ کر کے وہ مطمئن ہو گئے۔دوران گفتگو ان کی خدمت میں یہ نکتہ بھی پیش کرنے کی توفیق ملی کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ کتا بیں چار نازل ہوئیں اور نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار آئے۔دوسرے الفاظ میں مذہب کی ۵ ہزار سالہ تاریخ میں صرف چار شرعی نبی مبعوث ہوئے اور باقی سب کا مشن پہلی شریعت ہی کا احیا اور ازسرنو قیام تھا۔اس اعتبار سے بھی الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کے فقط یہی معنی متعین ہوتے ہیں کہ قرآن شریف قیامت تک کے لیے مکمل کتاب ہے۔اب کوئی شخص کسی نئی شریعت کا حامل نہیں ہوسکتا اور اس عقیدہ پر احمدیوں کا مکمل ایمان ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بابیت و بہائیت کے خلاف شروع سے لسانی و قلمی جہاد کر رہے ہیں۔دوسری طرف مخالف احمدیت علماء جو ختم نبوت“ کے محافظ بنے پھرتے ہیں ان دجالی تحریکوں کے پشت پناہ بنے ہوئے ہیں جس سے آنحضرت کی پر انوار ذات اقدس سے ان کی پوشیدہ عداوت اور دشمنی کا صاف پتہ چل جاتا ہے۔یہ گروہ قرآنی روح سے بیگانہ محض طبقہ رسول اور نبی میں امتیاز کرتا ہے۔اس کے عقیدہ کے مطابق رسول نئی شریعت لاتا ہے جبکہ نبی کے لیے یہ ضروری نہیں۔قرآن سے باغی بہائی فرقہ کی بنیاد بالکل یہی ہے اور اُن کا استدلال یہ ہے کہ قرآن نے آنحضرت کو خاتم النبین“ کا خطاب دیا ہے خاتم الرسل کا نہیں۔ثابت ہوائی شریعت آسکتی ہے اور یہی دعوئی باب اور بہاء اللہ کا تھا۔فرمایے مکفر علماء پر کیوں سکوت مرگ طاری ہے اور وہ کیوں اس کا جواب نہیں دیتے۔احمدی چونکہ عاشق قرآن ہیں اس لیے وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس شرمناک عقیدہ کو گوارا نہیں کر سکتے۔قرآن مجید نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بیک وقت رسول و نبی دونوں القاب سے یاد فرمایا ہے۔(سورہ مریم: ۵۵) اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام ابرا ہیمی شریعت کے تابع تھے۔ہر گز کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے۔در اصل رسول و نبی ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔اس پہلو سے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق خدا کی رہنمائی کے لیے اس کو مامور کیا جاتا ہے وہ رسول کہلاتا ہے اور کثرت مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہونے کے باعث اُس کا نام نبی رکھا جاتا ہے۔