دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 105
105 حاصل کی۔بعد میں حضرت مولانا نے مجھے بتایا کہ تم حضور کے کلاس فیلو کو الوداع کہنے چلے گئے تھے مگر میں سیدھا قصر خلافت میں پہنچا اور حضور کی خدمت میں اس نشست کی پوری تفصیل عرض کی تو حضور انور بہت محظوظ ہوئے۔خود مجھے بھی بہت لطف آیا۔حالانکہ میں کئی سال تک شیعیت کے مرکز لکھنو میں مبلغ رہا ہوں اور کئی مناظرے بھی کئے ہیں۔رئیس اعظم شارجہ ( متحدہ عرب امارات ) متحدہ عرب امارات دسمبر ۱۹۷۱ ء میں قائم ہوئی۔یہ وفاقی حکومت ابوظہبی ، دبئی، شارجہ، ابوظہبی، عثمان ، ام القوین، راس الخیمہ اور فجیرہ جیسی سات چھوٹی ریاستوں پر مشتمل ہے۔۱۹۸۸ء میں خاکسار تلونڈی موسیٰ کیس میں دیگر ۸ مخلص احمدیوں کے ساتھ سنٹرل جیل گوجر انوالہ سے ضمانت پر رہا ہوا تو پیارے حضور سیدی حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الرابع نور اللہ مرقدہ کی خصوصی ہدایت پر میں نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔چونکہ پاکستان سے کوئی جماعتی لٹریچر ساتھ لے جانا ممکن نہ تھا اس لیے میں نے ابوظہبی کی سرکاری لائبریری سے احمدی علم کلام کے تائید میں بزرگان سلف کی عربی کتب کے تائیدی حوالوں کا عکس حاصل کیا اور جس کی سات آٹھ کا پیاں امیر ابوظہبی جناب منیر احمد صاحب نے کرا دیں اور ان سب کو سات فائلوں کی صورت محفوظ کیا جس کے بعد امارات کی جملہ ریاستوں میں اُن پر تعارفی لیکچر دیئے اور ایک ایک کاپی بغرض ریکارڈ و استفادہ ہر ریاست کے امیر جماعت کو دیں۔اس طرح ان ریاستوں کے احمدیوں نے محسوس کیا کہ اُن کے ہاتھوں میں دعوت الی اللہ کا ایک نیا علمی طریق مل گیا ہے اور وہ اپنے عرب بھائیوں کو کسی تمہید کے بغیر صرف فوٹو کاپیوں کے ذریعہ بآسانی احمدیت کا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔اُن دنوں شارجہ کے امیر محترم مرزا بشیر بیگ صاحب مرحوم ( برادر نسبتی مولانا عبد القدیر شاہد سابق مجاہد افریقہ حال کینیڈا) تھے۔محترم مرزا صاحب کا حلقہ تعارف بہت وسیع تھا۔خصوصاً مقامی رؤساء سے ان کے گہرے روابط و مراسم تھے۔آپ نے خاکسار کی ملاقات شارجہ کے ایک رئیس اعظم ( غالباً السید لوطا ) سے کرانے کا انتظام فرمایا اور خاص اس غرض سے عربی لباس تیار کرایا جو