دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 103 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 103

103 حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جدید تحقیقات سے حضرت مسیح علیہ السلام کی تینوں خصوصیات بالبداہت ثابت ہو چکی ہیں۔اس تقابلی مطالعہ کے بعد ہر مؤرخ (HISTORIAN) با سانی فیصلہ کر سکتا ہے کہ اسے انجیل پر اعتقاد رکھنا چاہیے یا قرآن مجید جس کو الہامی کتاب پر ایمان لانا چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ایک کالج فیلو حضرت مولانا عبدالمالک صاحب ناظر اصلاح و ارشاد اور راقم الحروف ایک بار ظہر سے قبل پیارے آقاسیدی حضرت امیر المومنین خلیفہ ثالث کے قدموں میں بیٹھے تھے کہ ناگاہ لاہور سے ایک معزز دوست آگئے جن کا حضور نے پر تپاک خیر مقدم کیا اور بتایا کہ ہم دونوں گورنمنٹ کالج میں اکٹھے پڑھتے رہے ہیں۔حضور نے ان سے باہمی دلچپسی کے بعض معاملات پر دلچسپ گفتگو فرمائی اور آخر میں ہمیں ارشاد فرمایا کہ یہ میرے ذاتی اور نہایت معززمہمان ہیں۔انہیں میری طرف سے کھانا پیش کرنے کے بعد ربوہ کے اڈہ پر الوداع کہیں۔حسب ارشاد دار الضیافت میں ان کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔ہمارے معزز مہمان نے کھا نا شروع کرتے ہی بتایا کہ اُن کا تعلق فرقہ جعفریہ سے ہے۔ہم لوگ منصب امامت کو نبوت سے افضل گردانتے ہیں۔آپ کا کیا خیال ہے۔حضرت مولانا عبدالمالک خان صاحب نے مجھے جواب کا ارشاد فرمایا۔عاجز نے گزارش کی کہ ہمارے مذہب کی بنیاد تو قرآن مجید ہے۔آپ کتاب اللہ سے اپنے اس موقف کی تائید میں صرف ایک آیت سناد بیجئے ہم اس پر بے چون و چراں ایمان لے آئیں گے۔اس پر انہوں نے یہ آیت پڑھی: إِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِمَ رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إمَامًا ( البقرة : ۱۲۵) اُن کا استدلال یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے جبکہ حضرت ابراہیم نبی تھے امتحان لیا جس میں کامیابی کے بعد انہیں سند امامت عطا ہوئی۔ثابت ہوا امام نبی سے افضل ہوتا ہے۔میں نے محترم و معزز دوست کا بہت شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کلام اللہ سے ایک ایسی معرکہ آراء آیت کا انتخاب فرمایا ہے جس سے مسلمانوں کے باقی فرقوں پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے