دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 3 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 3

إِلَّا رَسُمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِّنَ الْهُدَى عُلَمَاءُ هُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيْهِمْ تَعُودُ - ( مشکوۃ کتاب العلم صفحہ ۷۶) لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کریم کی صرف عبارت باقی رہ جائے گی۔مسجد میں ان کی بڑی عالیشان اور آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے انہی میں سے فتنے نکلیں گے اور انہیں میں واپس لوٹیں گے۔آج یہ وہی دور ہے جس کی نشاندہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔اسلام صرف نام کے طور پر رہ گیا ہے یعنی نام پوچھو تو مسلمانوں جیسے ہیں لیکن عمل حقیقی مسلمانوں جیسے نہیں بلکہ اب تو یہاں تک حد ہو چکی ہے کہ ہزاروں مسلمان ایسے بھی ہیں جن کے نام بھی آپ کو مسلمانوں جیسے نظر نہیں آئیں گے بلکہ بات کرنے سے معلوم ہوگا کہ انکے باپ یا دادا مسلمان تھے اور انہوں نے حالات سے مرعوب ہو کر اپنی اولا د کا نام بدل دیا تھا۔اسی طرح حدیث شریف کے عین مطابق قرآن کریم کی عبارت صرف لکھے ہوئے الفاظ کے طور پر محفوظ ہے ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمان ایسے ہیں جو اس لکھی ہوئی عبارت کو پڑھنا تک نہیں جانتے ، ترجمہ جاننا اور اس پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے۔ہزاروں مسلمان گھرانے ایسے ہیں جہاں گھروں میں دیکھنے کے لئے بھی قرآن مجید نہیں ملتا۔مذکورہ حدیث مبارک میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مساجد آباد تو ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی آج آپ بر صغیر ہند و پاک میں بظا ہر نہایت خوبصورت مسجدیں بھی دیکھیں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ ان میں نمازی بھی حاضر ہوتے ہیں لیکن مسجدوں کی آبادی کے نتیجہ میں جو ہدایت حاصل ہونی چاہئے وہ ان میں سے اکثر نمازیوں کو ہر گز نہیں ملتی کیونکہ مسجدوں میں فرقہ 3