دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 4
بندیوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔دوسرے فرقہ کے لوگوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔امام صاحبان گاؤں کے لوگوں سے اناج اور پیسہ وصول کرنے کے لئے مسجدوں میں نمازیں پڑھاتے ہیں۔علاوہ ان کے آپ ایسی مسجد میں بھی دیکھیں گے جہاں ان مسجدوں کو آباد کرنے والے دوسرے فرقہ کے لوگوں کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔پاکستان میں آجکل کیا ہو رہا ہے؟ شیعہ سنیوں کی مسجدوں کو لہولہان کر رہے ہیں اور سنتی مولوی شیعہ مسجدوں کے نمازیوں کو خون سے رنگ رہے ہیں۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بالخصوص ہندوستان میں ہزاروں مسجدیں ایسی ہیں جنہیں یا تو شہید کر دیا گیا ہے اور یا غیر مسلم ان مساجد میں اپنے جانور باندھتے ہیں۔جماعت احمدیہ نے ایسی کئی مساجد کو گوبر سے صاف کر کے دھو کر انہیں آباد کیا ہے، ان پر ہزاروں روپے خرچ کر کے انہیں نماز پڑھنے کے قابل بنایا ہے لیکن حد یہ ہے کہ جب احمدی ایسی مسجدوں کو آباد کر لیتے ہیں اور وہاں نماز اور قرآن مجید کی تلاوت شروع ہو جاتی ہے لاؤڈ اسپیکر لگا کر اذان کی آواز دُور دُور تک پہنچائی جاتی ہے تب ان دیو بندی مولویوں کی غیرت اسلام اور عشق رسول کی رگ پھڑکتی ہے اور وہ فورا معصوم مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے انہیں احمدیوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور اپنے روایتی انداز میں گلے پھاڑ پھاڑ کر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ قادیانی اللہ اور رسول کی توہین کرنے والے ہیں۔سمجھدار مسلمان تو اس چال کو سمجھ جاتے ہیں کہ یہ دیو بندی نہ خود مسلمانوں کی نسل کو تعلیم دیتے ہیں اور نہ برداشت کرتے ہیں کہ یہ پڑھ لکھ کر جہالت کے جنگل سے باہر نکل جائیں چنانچہ وہ ان فساد پھیلانے والے دیوبندی مولویوں سے پوچھتے ہیں کہ اے اسلام کے ہمدرد! اور اے محمد صلعم کے پریمیو!! اُس وقت تم کہاں تھے جب یہاں کی مسجد بے آباد تھی ، اُس میں گندگی پڑی تھی ، ہم اور ہمارے بچے نماز روزے سے غافل اور قرآن مجید سے لاعلم تھے اب جبکہ ہم نے ان احمدیوں کے ذریعہ ہی اسلام کی واقفیت حاصل کی ہے تو تم ان کو کافر اور رسول خُدا کی توہین کرنے والے کہتے ہو۔4