دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 48
بالکل حذف کر دئے گئے ہیں تا کہ بآسانی یہ مغالطہ دیا جا سکے کہ عاقب کی یہ تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوئی ہے۔اور فی الحقیقت یہ حدیث نبوی ہے یہی نہیں اس مغالطہ انگیزی کو انتہا تک پہنچانے کے لئے حاشیہ میں بھی لکھ دیا کہ دلیس بعدی بنی۔اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔صحیح مسلم شریف: حضرت امام مسلم بن حجاج - ( ولادت ۲۰۲ هجری ۸۲۱ - ۶۸۲۲ وفات ۲۶۱ هجری ۶۸۷۵) علم حدیث کی نہایت معروف کتاب ہے لیکن یہ کتاب بھی تحریف کا شکار ہو چکی ہے حضرت امام مسلم نے کتاب الحج باب فضل صلوة بمسجدى مكةو مدینۃ میں مندرجہ ذیل حدیث بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ درج فرمائی ہے۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانی آخر الانبیاءوان مسجدی أخر المساجد یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے یہ حدیث جماعت احمدیہ کے نظریۂ ختم نبوت کی زبر دست مؤید ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی تفسیر خود حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے فرمائی ہے۔قارئین کرام ! خون کے آنسو رویئے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی کرنے والوں نے یہ حدیث بھی صحیح مسلم کتاب الایمان سے نکال دی ہے یہ حذف شدہ نسخہ شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز لا ہور نے نومبر ۱۹۵۶ میں شائع کیا ہے۔صحیح مسلم میں دوسرا تغیر و تبدل یہ کیا گیا ہے کہ کتاب الایمان میں سے وہ پورا باب ہی کاٹ کر الگ کر دیا گیا ہے جس کا عنوان ہے باب نزول عیسیٰ ابن مریم حاكمأًبشريعة نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔اس طرح صرف اس ایک باب کے حذف کے نتیجہ 48