دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 32 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 32

اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں لکھا ہے کہ۔تھے۔“ ابوبکر وعمر کیا تھے وہ حضرت مرزا قادیانی کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہ (رسالہ المہدی جنوری فروری ۱۹۱۴ ء ) یہ حوالہ بالکل جھوٹ اپنی طرف سے گھڑا گیا ہے۔ملاحظہ فرمائیے حضرت مرز اصاحب حضرت ابوبکر حضرت عمرؓ کی تعریف و توصیف میں کیا فرماتے ہیں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں خدائے غیور و قدوس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس گھڑی نے میرا ایمان حضرت اقدس (سیدنا احمد ) کی نسبت اور بھی زیادہ کر دیا۔آپ (حضرت احمد ) نے چھ گھنٹے کامل تقریر فرمائی اس سارے مضمون میں آپ (حضرت احمد ) نے رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیمات کے محامد اور فضائل اور اپنی غلامی اور کفش برداری کی نسبت حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اور جناب شیخین رضی اللہ عنہما ( یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل مذکور فرمائے اور فرمایا میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں ( یعنی صحابہ ) کا مذاح اور خاکپا ہوں جو مجزئی فضیلت خدا تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے وہ قیامت تک کوئی اور شخص پا نہیں سکتا۔“ 66 (اخبار الحکم نمبر ۲۹ جلد نمبر ۱۷،۳ / اگست ۱۸۹۶ء) حضرت امام حسین کی تعریف و توصیف میں آپ فرماتے ہیں :- حضرت حسین رضی اللہ عنہ ظاہر و مظہر تھا اور بلا شبہ ان برگزیدوں میں سے تھا جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے۔32 32 (تبلیغ حق صفحه ۲۰۱)