دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 87 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 87

87 کبھی جھوٹ بولتے دیکھا ہے۔اگر میں نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں جو دعوی نبوت سے قبل کی ہے کسی ایک معاملہ میں بھی جھوٹ نہیں بولا تو کیا تمہاری عقل اس بات کو تسلیم کرے گی کہ آج اچانک میں خدائے تعالیٰ کے بارے میں جو احکم الحاکمین ہے جھوٹ اور افتر ا سے کام لینے لگا ہوں۔انسانی فطرت تو یہ ہے کہ ہر عادت خواہ نیکی کی ہو یا بدی کی آہستہ آہستہ پڑتی ہے۔یہ تو فطرت کے ہی خلاف ہے کہ چالیس سال تک تو انسان بیچ بولتا رہا ہو اور پھر ایک دم ایسا تغیر پیدا ہو جائے کہ انسان خدا کے بارے میں جھوٹ بولنے لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دعویٰ نبوت پیش کرنے سے قبل لوگوں کو جمع کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر جرار چھپا ہوا ہے تو تم اس بات کو مان لو گے! تو انہوں نے کہا مَا جَرَّبُنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا (بخاری کتاب التفسير سورة الشعراء جلد ۳ صفحه ۱۰۶مصری) ہم نے آپ سے سوائے سچ کے کسی اور چیز کا تجربہ نہیں کیا۔تب آپ نے فرمایا۔فَإِنِّي نَذِيرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَى عَذَابِ شَدِید۔میں خدا کی طرف سے نبی ہو کر آیا ہوں اور ایک خطر ناک عذاب سے تمہیں ڈراتا ہوں۔یہ بات سن کر حاضرین میں سے ابولہب اٹھا اور اس نے کہا بالک۔تیرے لئے ہلاکت ہو تو نے یہ کیا بات کہی ہے۔اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی دوست اور دشمن سب کے تجربہ کی رو سے پاک اور صاف ہوتی ہے اور وہ جھوٹ بولنے کا