دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 79 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 79

79 تیسری آیت يبني أدم إمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ أيتي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَO (الاعراف: ۳۶) اے آدم کے بیٹو! جب بھی تمہارے پاس تم میں سے رسول بنا کر بھیجے جائیں اور وہ تمہارے سامنے میری آیات پڑھ کر سنائیں تو جولوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اصلاح کریں گے ان کو (آئندہ کیلئے ) کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور شدہ ( ماضی کی طرح کسی بات پر ننگین ہوں گے۔استدلال اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جب تک بنی آدم اس دنیا میں موجود ہیں ان میں رسول آتے رہیں گے اور انسانوں کا فرض ہے کہ ان پر ایمان لائیں۔اس جگہ اگر چہ ساری نسل انسانی کو عمومی رنگ میں خطاب کیا گیا ہے لیکن در حقیقت آنحضرت علی کے زمانہ اور آپ کے بعد کے زمانہ کے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔جیسا کہ اس سے پہلی آیت کے مفہوم سے واضح ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يبني ادم خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا ولا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَة (الاعراف: ۳۲)