دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 42 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 42

42 لئے ہے جیسے ریلوے کے ملازم یا گاڑی کے ڈرائیور یا پھیری والے ان سب کو روزہ رکھنا چاہئے۔ان کا سفر سفر نہیں بلکہ معمول کی حالت ہے۔جولوگ مزدور پیشہ یا زمیندار پیشہ ہیں اور رمضان میں انہیں ایسی مشقت کا کام پڑ جائے کہ اگر چھوڑیں تو 1 ماہ کی فصل ضائع ہو جائے اور اگر کام کریں تو روزہ نہ رکھ سکیں تو وہ مجبور کے حکم میں ہیں۔مزدور پیشہ کو چاہئیے کہ وہ باقی سال کے گیارہ مہینہ اس قدر محنت کرے کہ رمضان میں آرام کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے کاشت کاروں اور مزدوروں کے بارے میں جن کا گزارہ مزدوری پر ہے اور روزہ ان سے نہیں رکھا جاتا۔فرمایا: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات۔یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ہر شخص تقوی وطہارت سے اپنی حالت سوچ لے۔اگر کوئی اپنی جگہ مزدوری پر رکھ سکتا ہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے۔پھر جب میسر ہور رکھ لے“۔( ملفوظات جلد نهم صفحه ۳۹۴) ۱۲۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ روزہ دار آنکھ میں سرمہ ڈالے یا نہ ڈالے۔فرمایا: مکروہ ہے اور ایسی ضرورت ہی کیا ہے کہ دن کے وقت سرمہ لگائے۔رات سرمہ لگا سکتا ہے“۔(ملفوظات جلد نہم صفحہ ۱۷۳) ۱۳۔رمضان کی ابتداء چاند دیکھنے سے ہوتی ہے۔اگر مطلع صاف نہ ہو تو شعبان