دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 176 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 176

176 جن میں سرکشی پائی جاتی تھی آپ نے دوبارہ بیعت اطاعت لی لیکن بیعت کر لینے اور اقرار اطاعت کے باوجود ان حضرات کے دل صاف نہ ہوئے اور وہ تمر داور سرکشی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ کھلم کھلا مخالفت پر اتر آئے اور آپ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرنے لگے۔۱۹۱۰ء میں آپ گھوڑے سے گر گئے اور بہت چوٹیں آئیں۔علالت کا سلسلہ طویل ہو گیا۔اس دوران ایک مرتبہ آپ نے وصیت تحریر فرمائی جو صرف دو الفاظ پر پر مشتمل تھی۔یعنی خلیفہ محمود۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ اپنے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کو خلیفہ نامزد کرنا چاہتے تھے۔آپ نے اپنی علالت کے دوران حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کو اپنی جگہ امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔یوں بھی آپ ان کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے اور برملا اس امر کا اظہار کرتے تھے کہ اپنے تقویٰ وطہارت، اطاعتِ امام اور تعلق باللہ میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔جب آپ کی علالت کا سلسلہ طویل ہو گیا تو منکرین خلافت نے گمنام ٹریکٹ لا ہور سے شائع کئے۔جن میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ قادیان میں پیر پرستی شروع ہوگئی ہے اور مرزا محمود احمد صاحب کو خلافت کی گدی پر بٹھانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے بارے میں لکھا گیا کہ ایک عالم دین نے ایڈیٹر پیغام صلح اور دوسرے متعلقین کو ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہلبیت کے متعلق تحریر کیا کہ وہ بزرگان سلسلہ ( مراد خواجہ صاحب اور