دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 164 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 164

164 سے ان بزرگ خطابات کی یہی تو جیہہ کرتے کہ ان سے مقصود محض کثرت مکالمہ ومخاطبہ ہے اور زیادہ وضاحت ہوئی تو ایک عرصہ تک اپنے مقام کو جزوی یا ناقص نبوت سے تعبیر کرتے رہے۔لیکن پھر ۱۸۹۰ء اور ۱۹۰۰ء کے درمیانی عرصہ میں آپ پر اس امر کا کامل انکشاف ہو گیا کہ آپ نبوت کے مقام پر ہی فائز ہیں۔اس رنگ میں کہ ایک پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں اور کثرت مکالمہ الہیہ کے لحاظ سے نبوت کے مقام پر فائز ہیں۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی اور لدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔اس روز چالیس افراد بیعت کر کے اس سلسلہ میں داخل ہوئے۔بیعت کرنے والوں میں اولیت کا شرف حضرت حاجی الحرمین حکیم مولوی نورالدین صاحب کو حاصل ہوا جو بعد میں آپ کے خلیفہ اول منتخب ہوئے۔۱۸۹۰ء میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔اس دعویٰ کے ساتھ ہی آپ کے خلاف ایک طوفانِ بے تمیزی امڈ آیا۔بڑے بڑے علماء نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے دیئے لیکن خدا تعالیٰ کی نصرت و تائید کے نشانات پے در پے ظاہر ہورہے تھے آپ نے تمام سجادہ نشیوں، پیروں، فقیروں کو مقابلہ کی دعوت دی۔مباحثات و مناظر ات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور لوگوں پر آپ کی صداقت منکشف ہوتی چلی گئی۔پھر آپ نے مکفر علماء کو دعوت مباہلہ بھی دی کہ اگر چاہیں تو اس رنگ میں خدائے تعالیٰ کے فیصلہ کو دیکھ لیں۔علماء کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لیڈروں اور نمائندوں کو بھی مقابلہ کے لئے للکارا۔