دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 47 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 47

47 لگوا کر زمین سیراب کرے تو اس کی شرح بیسواں حصہ ہے۔۱۰ چاندی کا نصاب ۵۲ تولہ ۶ ماشه ( ۶۱۲ گرام ۱۳۵۱ ملی گرام) ہے اور زکوۃ کی شرح چالیسواں حصہ ہے۔یعنی ۵۲ تولہ ۶ ماشہ پر زکوۃ کی مقدار ایک تولہ تین ماشہ چھورتی ( ۱۵اگرام ۳۱ ملی گرام ) بنتی ہے۔یہی حکم چاندی کے زیور کا ہے۔سونے کا نصاب چاندی کے نصاب کے تابع ہے اور زکوۃ کی شرح اس صورت میں بھی چالیسواں حصہ ہے سونے چاندی کے زیورات پر وزن کے لحاظ سے زکوۃ ہوگی نہ کہ ان کی بنوائی وغیرہ کے لحاظ سے۔۱۲۔سونے اور چاندی کے وہ زیور جو عام طور پر استعمال میں رہتے ہیں اور غرباء کو بھی عاریتا دئیے جاتے ہوں ان پر زکوۃ واجب نہیں۔سونے کے ایسے زیورات کا اندازہ آٹھ تولے تک ہے اور اسی بناء پر بعض فقہاء نے سونے کا نصاب ۸ تو لے۴ ماشہ (۹۷ گرام ۲۰۰ ملی گرام) مقرر کیا ہے لیکن یہ نصاب نہیں بلکہ استعمال کے زیور کے لحاظ سے چھوٹ ہے۔۱۳۔سکے خواہ وہ کسی دھات کے ہوں یا کاغذ کے ہوں ان کا نصاب چاندی کے مطابق ہوگا۔یعنی جس شخص کے پاس اس قدر رو پے یا پونڈ ، ڈالر یا کرنسی نوٹ ہوں جن کی قیمت ۵۲ تولہ ۶ ماشہ چاندی کے برابر ہو تو ایسا شخص صاحب نصاب سمجھا جائے گا اور اسے چالیسواں حصہ زکوۃ دینی ہوگی۔یعنی ڈھائی فی صد۔