دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 46
46 باجرہ، کھجور، انگور، جنگلی شہد اور کسی نے اکٹھا کیا ہو۔( ii ) وہ معدنیات جو افراد کی تحویل میں ہوں مثلاً لوہے کی کان ، تانبے کی کان ، ٹین کی کان، تیل کے کوئیں وغیرہ (iv) اموال تجارت - صنعت و حرفت میں لگا ہوا سر مایہ ( بحواله فقه احمدیه صفحه ۳۵۹،۳۵۸) جن مالوں پر ز کو ۃ واجب ہوتی ہے ان میں سے ہر ایک کیلئے شریعت نے ایک حد مقرر کی ہے جو مال اس مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔اس حد اور مقدار کو نصاب کہتے ہیں۔غلوں، کھجوروں، انگوروں پر اسی وقت زکوۃ یا عشر واجب ہوتی ہے جب ان کی فصل تیار ہو جائے اور مالک انہیں کاٹ لے لیکن باقی مال پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ مالک کے پاس ایک سال رہا ہو۔غلوں، کھجوروں اور انگوروں پر زکوۃ صرف ایک دفعہ واجب ہے خواہ وہ ایک سال سے زائد عرصہ رہیں لیکن باقی اموال پر ہر سال واجب ہوتی ہے بشرطیکہ ان کی مقدار نصاب سے کم نہ ہو۔غلہ کا نصاب ۲۱ من ۵ سیر (۷۸۱ کلو۰ ۸۷ گرام) ہے۔اس سے کم ہو تو زکوۃ واجب نہیں۔جس کھیت کیلئے پانی قیمت ادا کر کے نہ لیا گیا ہو گویا بارانی زمین ہو تو اس کی شرح زکوۃ دسواں حصہ ہے لیکن جس کیلئے قیمت ادا کر کے پانی مہیا کیا گیا ہومثلا زمیندار خود نہر بھینچ کر لایا ہو یا ٹیوب ویل