دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 159
159 امر کا افسوس رہا کہ کیوں انہوں نے حضرت علیؓ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔جنگ صفین جنگِ جمل کے بعد حضرت علی نے امیر معاویہؓ کو پھر ایک مرتبہ بیعت کر لینے کی تلقین کی لیکن وہ کسی طرح اس امر پر آمادہ نہ ہوئے انہوں نے عمرو بن عاص والی مصر کو اپنا ہمنو ابنایا اور جنگ کی تیاری کی اور ۸۵ ہزار کا لشکر لے کر حضرت علیؓ کے خلاف صف آراء ہو گئے۔حضرت علیؓ کے ساتھ بھی ۸۰ ہزار کا لشکر تھا۔سات دن تک جنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ساتویں دن قریب تھا کہ امیر معاویہؓ کا لشکر شکست کھا جائے کہ عمرو بن عاص نے ایک چال چلی۔قرآن مجید نیزوں پر رکھ کر بلند کئے اور تجویز پیش کی کہ ثالث مقرر کر کے فیصلہ کر لیا جائے۔حضرت علیؓ کے کچھ ساتھی بھی اس دھوکے میں آگئے اور انہوں نے ثالث کی تجویز کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔اپنی صفوں میں انتشار دیکھ کر مجبور ا حضرت علیؓ نے اس تجویز کو قبول کر لینے پر آمادگی ظاہر کی۔حضرت علی کی طرف سے ابوموسیٰ اشعری اور امیر معاویہ کی طرف سے عمرو بن عاص ثالث مقرر ہوئے۔ابو موسیٰ اشعری سیدھے سادھے صوفی منش آدمی تھے لیکن عمرو بن عاص بہت جہاندیدہ انسان تھے انہوں نے ابو موسیٰ اشعری کو یہ کہہ کر ہم خیال بنا لیا کہ حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہ دونوں کو معزول کر کے نیا انتخاب کیا جائے۔چنانچہ ابو موسیٰ نے اس کا اعلان کر دیا لیکن عمرو بن عاص نے کہا کہ میں حضرت علیؓ کے معزول کئے جانے کی تائید کرتا ہوں لیکن امیر معاویہ کو برقرار رکھتا ہوں اس طرح عمر و بن عاص نے لوگوں کو دھوکا دیا۔