دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 129 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 129

129 قاضی محمد ظہور الدین صاحب الکمل نے سوال کیا کہ محرم کی دسویں کو جو شربت اور چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ للہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے۔فرمایا:۔ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم و بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔ہیں اس سے پر ہیز کرنا چاہئے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ابتداء میں اسی خیال سے ہوا مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔اس لئے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائدِ باطلہ دُور نہیں ہوتے“۔( ملفوظات جلد ۹ صفحه ۲۱۴) تسبیح کا استعمال عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ چلتے پھرتے اور مجلس میں بیٹھے تسبیح کے دانے گنتے رہتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا وہ ہر لحظہ ذکر الہی میں مصروف ہیں اس بارے میں حضور علیہ السلام نے فرمایا:۔دو تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور وہ اس گنتی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا تو وہ گنتی پورے کرے اور یا توجہ کرے۔اور یہ صاف بات ہے کہ گفتی کو پورے کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا ہے۔انبیاء علیہم السلام اور کاملین