دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 92
92 استدلال اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَعِندَة مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُود (الانعام : ٦٠ ) یعنی غیب کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اور غیب کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اس آیت میں الغیب سے مراد خالص غیب ہے جس کی پیش بینی کسی سائنسی اصول پر نہیں کی جاسکتی۔سورۃ الجن کی آیت میں یہ بتلایا ہے کہ خالص غیب کی خبریں اللہ تعالیٰ صرف اپنے برگزیدہ انبیاء کو ہی کثرت سے بتلاتا ہے۔اس اصول کے مطابق جس شخص کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اس کے رسول ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔ظَهَرَ عَلَى الْغَيْبِ کے یہی معنی ہیں کہ امور غیبیہ کثرت سے بتلائی جائیں اور وہ عظیم الشان خبروں پر مشتمل ہوں گو یا کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ گویا غیب پر غلبہ حاصل ہو گیا ہے۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسی غیبی خبریں کچھ آفاق یعنی اطراف عالم سے تعلق رکھتی ہیں اور کچھ افراد سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ فرمايا سَنُرِيهِمْ ايتنا في الأفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمُ أَنَّهُ الْحَق ( حم سجده:۵۴) ترجمعہ: ” عنقریب ہم ان لوگوں کو اطراف عالم میں بھی نشان دکھا ئیں