دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 45 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 45

45 کرتا ہے کہ اس سے مال کم ہوتا ہے وہ نفس کے دھوکے میں مبتلا ہے خدائے تعالیٰ تو قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔وما أتيتُم مِّن زَكوة تُرِيدُونَ وَجْهُ اللهِ فَأُولَيكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ ( سورة الروم : ۴۰ ) جوز کوۃ تم محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی کیلئے دو گے۔تو ایسے طور پر دینے والے ( اپنے مالوں کو کم نہیں کرتے بلکہ ) بڑھاتے ہیں۔۳۔جب امام وقت موجود ہو تو ز کو ۃ اس کے پاس آنی چاہئے وہی بہتر جانتا ہے کہ اسے کس طرح خرچ کرے۔چندہ الگ چیز ہے اور زکوۃ الگ ہے۔جو شخص وصیت ادا کرتا ہے یا دوسرے طوقی چندے ادا کرتا ہے وہ زکوۃ کی ادائیگی سے مستقلی نہیں ہو سکتا۔مندرجہ ذیل پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔(الف) اموال باطنه: نقد روپیہ، سونا ، چاندی خواہ کسی شکل میں ہوزیورات یا استعمال کی کوئی اور چیز (ب): اموال ظاہرہ: (i) مویشی مثلاً، اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، دنبہ بشر طیکہ یہ سرکاری چراگاہوں یا شاملات دیہہ میں چرتے ہوں اور ان کو گھر میں با قاعد و چارہ ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے۔(ii) میں میں پیدا ہونے والی فصلیں جیسے گندم، جو ہکئی ، چاول،