دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 295
295 اقتصادی بحران ہے جسے Credit Crunch) قرضوں کی بازیابی کا فقدان کہا جا رہا ہے۔اس مسئلے کے تمام شواہد ایک ہی بنیادی حقیقت کی طرف نشاندہی کر رہی ہیں۔قرآن کریم میں ہمیں ہدایت ملتی ہے کہ سود سے اجتناب کرو کیونکہ سود ایک ایسی شدید برائی ہے جس سے گھریلو ، قومی اور بین الاقوامی سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ آج کے Credit Crunch یعنی قرضوں کے بحران سے صورت حال نہایت وضاحت کے ساتھ سامنے آگئی ہے۔ابتداء میں صورت حال یہ تھی کہ افراد جائیداد کی خرید کے لئے قرضے لیتے تھے اور تمام عمر اس قرض کی ادائیگی کرتے کرتے مقروض ہونے کی حالت میں موت کے منہ میں چلے جاتے تھے مگر جائیداد کی ملکیت ان کو حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔مگر آج کے دور میں حکومتیں قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔بہت بڑی بڑی کمپنیوں کا دیوالیہ نکل گیا ہے۔بہت سے بینک اور مالیاتی ادارے یا تو دیوالیہ ہو گئے ہیں یا حکومتی امداد کے ذریعہ انہیں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔اس سنگین صورت حال سے امیر اور غریب دونوں ممالک دو چار ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ حالت یہ ہے کہ جن لوگوں نے بینکوں میں پیسہ رکھا ہوا ہے اس پیسے کی کوئی قیمت نہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک میں خاندانوں تاجروں اور اکابرین حکومت کا سکون برباد ہو گیا ہے۔یہ سب وہی مسائل ہیں جن کے بارہ میں ہمیں وقت سے بہت پہلے خبر دار کیا گیا تھا۔حضور انور نے