دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 236 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 236

236 دنیا میں درس و تدریس پر قادر ہو سکے گا۔ابھی ہمارے حالات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے ، ابھی ہمارے پاس کافی سرمایہ نہیں اور ابھی علمی وقتیں بھی ہمارے راستے میں حائل ہیں لیکن اگر یہ تمام دقتیں دور ہو جائیں اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ ہمیں ترقی دے رہا ہے اور جس سرعت سے ترقی دے رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قریب زمانہ میں ہی یہ تمام دقتیں دور ہو جائیں گی تو بالکل ممکن ہے کہ قادیان میں قرآن اور حدیث کا درس دیا جا رہا ہو اور جاوا کے لوگ اور امریکہ کے لوگ اور انگلستان کے لوگ اور فرانس کے لوگ اور جرمن کے لوگ اور آسٹریا کے لوگ اور ہنگری کے لوگ اور عرب کے لوگ اور مصر کے لوگ اور ایران کے لوگ اور اسی طرح تمام ممالک کے لوگ اپنی اپنی جگہ وائرلیس کے سیٹ لئے ہوئے وہ درس سن رہے ہوں۔یہ نظارہ کیا ہی شاندار نظارہ ہوگا اور کتنے ہی عالی شان انقلاب کی یہ تمہید ہوگی کہ جس کا تصور کر کے بھی آج ہمارے دل مسرت و انبساط سے لبریز ہو جاتے ہیں“۔(الفضل ۱۳/ جنوری ۱۹۳۸ء صفحہ ۲) ایم ٹی اے کے ذریعہ بے شمار برکات کا ظہور ہورہا ہے۔یہ ساری دنیا کو وحدت کی لڑی میں پرونے کا ذریعہ ہے۔ہا ہم اپنے پیارے امام کی آواز گھر بیٹھے ہوئے سنتے ہیں اور اپنے دلوں کی