دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 187
187 میں امیر اللہ خاں والی افغانستان، نظام دکن، پرنس آف ویلز اور لارڈ ارون وائسرائے ہند خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔۱۹۳۹ء میں خلافت کے پچیس سال پورے ہونے پر سلور جوبلی کی تقریب منعقد ہوئی اور جماعت نے تین لاکھ کی رقم اپنے امام کے حضور تبلیغ ( دین حق ) کی توسیع کیلئے پیش کی۔پھر ۱۹۶۴ء میں جب خلافت ثانیہ پر پچاس سال پورے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کے حضورا ظہار تشکر کے طور پر خاص دعائیں کی گئیں اور اپنے پیارے امام کے مقاصد عالیہ کی تکمیل کے لئے جماعت نے پچیس لاکھ سے زائد رقم بطور شکرانہ پیش کی۔۱۹۴۴ء میں بذریعہ رویا والہام آپ پر اس امر کا انکشاف ہوا کہ آپ ہی وہ مصلح موعود ہیں جس کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی۔اس انکشاف کے اعلان کے لئے آپ نے ہوشیار پور، لدھیانہ، لاہور اور دہلی میں جلسے منعقد کر کے معرکۃ الآراء تقاریر کیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر کیا۔آپ نے یورپ کا دو مرتبہ سفر کیا۔پہلی مرتبہ آپ ۱۹۲۴ء میں ویمبلے کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن تشریف لے گئے جہاں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان کیں۔اس کا نفرنس میں آپ کا مضمون ”احمدیت یعنی حقیقی (دین حق انگریزی میں ترجمہ ہوکر پڑھا گیا۔۱۹۵۴ء میں آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔علاج سے زخم تو بظاہر مندمل ہو گئے لیکن