دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 162 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 162

162 بس ایک ہی خواہش اور ایک ہی دھن تھی کہ کسی طرح دین مصطفوی کی خدمت ہو اور اسلام کا نور آشکار کیا جائے۔آپ کے مذہبی شغف اور گوشہ نشینی کی عادت کی وجہ سے آپ کے والد بزرگوار کو یہ فکر دامن گیر رہتا کہ اس بچے کی آئیندہ زندگی کیسے بسر ہوگی۔اگر چہ آپ کی طبیعت کا میلان دنیا داری کے کاموں کی طرف قطعاً نہ تھا تا ہم آپ نے والد ماجد کی اطاعت کے جذبہ سے ان کے اصرار پر کچھ عرصہ سیالکوٹ میں ملازمت کی اور جدی جائیداد کے حصول کے سلسلہ میں مقدمات کی پیروی بھی کی لیکن بہت جلد والد کی اجازت سے ان امور سے دستکش ہو گئے اور تبلیغ حق کی مہم میں بدل و جان مصروف ہوئے۔۱۸۷۶ء میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا۔ان کی وفات سے قبل الہاما اللہ تعالیٰ نے اس حادثہ کی اطلاع آپ کو دی۔اور الیسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کے الفاظ میں یہ بھی ڈھارس بندھائی کہ وہ خود آپ کا کفیل ہوگا۔والد کی وفات کے بعد ہی مکالمات و مخاطبات الہیہ کا سلسلہ بڑے زور و شور سے شروع ہو گیا۔وہ زمانہ روحانی لحاظ سے انتہائی ظلمت و تاریکی کا تھا۔دنیا کا بیشتر حصہ مشرکانہ عقائد ورسوم میں مبتلا تھایا اپنے خالق و مالک سے یکسر بے گا نہ تھا۔ایک طرف عیسائی مناد اسلام پر حملے کر رہے تھے تو دوسری طرف آریہ سماج و بر ہمو سماج والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے خلاف گندہ دھنی اور الزام تراشی میں مصروف تھے۔علماء اسلام فروعی مسائل اور ایک دوسرے کے خلاف تکفیر بازی میں اس قدر الجھے ہوئے تھے کہ انہیں خدمت دین کا ذرا