دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 150
150 صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! عمر کو اسلام میں داخل کر کے مسلمانوں کو تقویت بخش۔حضرت عمرؓ بڑے رعب ودبدبہ کے مالک تھے۔اکثر غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش بدوش رہے۔آپ کی معاملہ نہی کی وجہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بھی اکثر معاملات میں مشورہ فرماتے تھے۔دور خلافت اپنی خلافت کے دور میں حضرت عمرؓ نے ایران و روم کی سلطنتوں کی طرف فوری توجہ دی اور بڑے صبر آزما حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابیاں عطا کیں۔ایران اور عراق فتح ہوا۔پھر شام ومصر فتح ہوئے۔بیت المقدس جب ۷ اھ میں فتح ہوا تو رومیوں کی درخواست پر حضرت عمر بنفس نفیس وہاں تشریف لے گئے اور صلح کے معاہدہ پر دستخط کئے اور سب کو امان دی۔آپ کے دور خلافت میں سلطنت کی حدود بہت وسیع ہوگئی تھیں۔مشرق میں افغانستان اور چین کی سرحدوں تک مسلمان فوجیں پہنچ چکی تھیں۔مغرب میں طرابلس اور شمالی افریقہ تک شمال میں بحر قز دین تک اور جنوب میں حبشہ تک۔ایک دنیا محو حیرت ہے کہ دس بارہ سال کے قلیل عرصہ میں ایک بے سروسامان قوم کس طرح منظم حکومتوں پر چھا گئی۔حضرت عمر نے توسیع سلطنت اور فتوحات کے ساتھ ساتھ ملکی انتظام کی طرف بہت توجہ دی۔ملک کو مختلف صوبوں میں تقسیم کیا اور ہر صوبے میں حاکم صوبہ، فوجی میرنشی، افسر مال،