دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 151
151 پولیس افسر ، قاضی اور خزانچی مقرر کئے۔عدالت، پولیس اور فوج کے الگ الگ محکمے قائم کئے۔ڈاک کا انتظام کیا۔جیل خانے بنائے۔ٹکسال بنا کر چاندی کے سکے رائج کئے۔مدینہ میں نیز تمام ضلعی مراکز میں بیت المال قائم کئے۔فوج کی تنخواہیں اور مستحقین کے وظیفے مقرر کئے اور دفتری نظام کی داغ بیل ڈالی۔رفاہِ عامہ کے کاموں کے سلسلہ میں بڑے بڑے شہروں میں مسافر خانے تعمیر کرائے۔مکہ اور مدینہ کے درمیان چوکیاں، سرا ئیں اور حوض تعمیر کرائے اور کئی نہریں کھدوائیں۔حضرت عمرؓ نے ۹۹ میل لمبی ایک نہر کھدوا کر دریائے نیل کو حمر (بحر قلزم ) سے ملا دیا جس سے تجارت کو بہت فروغ ہوا اور مصر کے حر جہاز براہِ راست مدینہ کی بندرگاہ تک آنے لگے۔حضرت عمرؓ نے سن ہجری کا آغاز کیا اور اسلامی تقویم (کیلنڈر) کی ابتداء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کے سال سے کی۔سیرت حضرت عمرؓ بڑی سادہ زندگی بسر کرتے تھے باوجود وسیع سلطنت کے حکمران ہونے کے آپ کے کپڑوں میں کئی پیوند لگے ہوتے تھے۔دنیاوی عیش وعشرت سے کوئی سروکار نہ تھا۔خلیفہ بننے کے بعد تجارت کا پیشہ ترک کر دیا اور بیت المال سے دو در ہم روزانہ وظیفہ لیتے۔انتظامی معاملات میں کسی کا لحاظ نہ کرتے۔عدل و انصاف اور رعایا کی بہبودی کا فکر آپ کی سیرت کی نمایاں خصوصیت ہے۔رات کو گشت کر کے لوگوں کی ضروریات کا علم حاصل کرتے