دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 141
141 صلح حدیبیہ ھ میں آنحضرت ﷺ نے ایک رویا کی بناء پر خانہ کعبہ کی زیارت ( عمرہ) کا ارادہ کیا اور ملکہ کی طرف روانہ ہوئے۔حضور کے ہمراہ چودہ سو صحابہ کی ایک جماعت تھی۔حدیبیہ کے مقام پر قریش نے آپ کا راستہ روک لیا۔بالآ خر مسلمانوں اور قریش میں ایک معاہدہ طے پایا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔اس معاہد ہ کی بناء پر حضور مدینہ واپس آگئے۔بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے دب کر صلح کرلی ہے لیکن درحقیقت اس کے نتیجہ میں فتح مکہ کا راستہ صاف ہو گیا اور سیاسی طور پر مسلمانوں کو ایک الگ قوم تسلیم کر لیا گیا۔بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط جب صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں دس سال تک پر امن رہنے کا کفار سے معاہدہ ہو گیا تو حضور نے دنیا کے مختلف حصوں میں جو سلاطین رہتے تھے ان کو خطوط کے ذریعہ پیغام حق پہنچایا۔چنانچہ قیصر روم، کسری پرویز ،شاہ ایران، مقوقس سلطان مصر، ملک حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اسلام کی دعوت دی گئی۔اسی طرح بحرین، بصرہ اور یمامی کے حکمرانوں کو بھی خطوط لکھے۔فتح مکه صلح حدیبیہ کی رُو سے دس سال تک جنگ بند رکھنے کا معاہدہ ہو چکا