دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 142 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 142

142 تھا۔لیکن ۸ھ میں خود مکہ والوں نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔اس بناء پر آنحضرت یہ دس ہزار قد وسیوں (صحابہ ) کو ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔قریش کو اس لشکر کے آنے کا اس وقت علم ہوا جب وہ مکہ کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ابوسفیان نے جو مکہ کا سردار تھا اتنا بڑا لشکر دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے اور اسلام کا رعب اس کے دل میں بیٹھ گیا۔حضرت عباس کے کہنے پر اس نے اسلام قبول کر لیا۔اسلامی لشکر فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔(آج تم پر کوئی الزام نہیں ) کہہ کر عام معافی کا اعلان فرما دیا اور عفو و در گذر کی ایسی مثال قائم کر دی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔فتح مکہ کے بعد اسلام بڑی تیزی سے سارے عرب میں پھیل گیا۔تا ہم فتح مکہ کے بعد بھی آپ کو بعض غزوات پیش آئے جن میں غزوہ حنین اور غزوہ تبوک زیادہ معروف ہیں۔وصال ہجرت کے بعد صرف ایک مرتبہ یعنی ہجرت کے دسویں سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے حج کیا جو حجۃ الوداع کہلاتا ہے۔آپ نے اس موقعہ پر ایک خطبہ دیا اور بطور وصیت آخری نصائح فرمائیں۔پھر آپ حج سے فارغ ہو کر واپس مدینہ تشریف لے گئے۔مدینہ آ کر مرض الموت میں مبتلا ہو گئے اور ۲۶ مئی ۶۳۲ ء مطابق یکم ربیع الاول ااھ بروز پیر تریسٹھ سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے رحلت فرما گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ صَلَّ