دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 140
140 آنحضرت یہ ہجرت کے بعد دس سال زندہ رہے۔جب قریش مکہ نے دیکھا کہ مسلمانوں کو مدینہ میں امن حاصل ہو گیا ہے تو انہوں نے متعددبار مسلمانوں پر چڑھائی کی اور فوجی طاقت سے اسلام کو مٹانا چاہا۔۔مسلمان بھی خود حفاظتی کے لئے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے۔چنانچہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان کئی خونریز معرکے ہوئے جن میں جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ احزاب بہت مشہور ہیں۔جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد صرف ۳۱۳ تھی اور کفار کی تعداد ایک ہزار تھی۔جنگ احد میں جو جنگ بدر کے تین سال بعد ہوئی مسلمانوں کی تعداد ۷۰۰ اور دشمن کی تعداد تین ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا کی۔۵ ھ میں یہودیوں نے جن کو ان کی شرارتوں اور بد عہدیوں کی وجہ سے مدینہ سے باہر نکال دیا گیا تھا۔قریش مکہ کو پھر جنگ کے لئے اکسایا اور دوسرے قبائل کو بھی جنگ پر آمادہ کیا۔اس کوشش کے نتیجہ میں دس ہزار کا جرار لشکر مدینہ پر حملہ ا ور ہوا۔آنحضور نے شہر کی حفاظت کے لئے اردگر د خندق کھدوائی۔قریباً ایک ماہ تک مدینہ کا محاصرہ رہا۔پھر خدا کی نصرت اس رنگ میں آئی کہ ایک رات تیز آندھی آئی اور جو احزاب مدینہ کے گرد خیمے ڈالے پڑے تھے ان کی روشنیاں بجھ گئیں اور دلوں میں خوف طاری ہو گیا۔پھر سارے گروہ ( احزاب ) ایک ایک کر کے بھاگ گئے اور اپنے ارادوں میں ناکام رہے۔یہ جنگ احزاب اور جنگ خندق کہلاتی ہے۔