دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 91
91 دلیل ہے کہ وہ اپنے دعوئی میں راستہاز ہے۔اگر وہ جھوٹا ہوتا تو بہت جلد ہم گرفت کرتے اور ہلاک کر دیتے۔اس آیت سے یہ نتیجہ نکلا کہ کوئی جھوٹا مدعی الہام و وحی اتنا عرصہ زندہ نہیں رہ سکتا جتنا عرصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم رہے۔جب سے دنیا بنی ہے کسی جھوٹے مدعی نبوت کو ( بشر طیکہ وہ مجنون نہ ہو ) عمولی کے ۲۳ سال کی مہلت نہیں ملی۔یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ اس آیت کریمہ میں لفظ تــــــول استعمال ہوا ہے جو جان بوجھ کر اور عمدا جھوٹ بولنے پر دلالت کرتا ہے ایک مجنون اور دیوانہ اس قانون کی زد میں نہیں آتا کیونکہ وہ بوجہ بیماری معذور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کا سلسلہ ۳ برس تک جاری رہا۔پس آپ کا اتنی مدت تک ہلاک نہ ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ بلاشبہ راستباز اور منجانب اللہ تھے۔معیار سوم عَلِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِمَ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (الجن : ۲۷۔۲۸) غیب کا جاننے والا وہی ہے ( یعنی خدائے تعالیٰ ) اور وہ اپنے غیب پر اپنے رسولوں کے سوا کسی کو کثرت سے اطلاع نہیں دیتا۔لا پہلا الہام ۱۸۶۵ء کا ہے اور آخری ۲۰/ مئی ۱۹۰۸ ء اس طرح سلسلہ الہامات ۴۳ سال پر پھیلا ہے۔