دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 66 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 66

66 استثناء کر دیا جاتا۔پھر انہیں الفاظ میں سورۃ مائدہ آیت ۷۶ ( دلیل سوم ) میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے آنے والے سب انبیاء گذر چکے ہیں۔جس طرح باقی انبیاء اس جہاں سے گذر گئے اسی طرح حضرت مسیح ابن مریم بھی اس جہان سے گذر گئے اور اب ہرگز زندہ نہیں ہیں۔مندرجہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور وہ ہرگز اس خا کی جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے نہیں گئے۔انسانوں کے لئے تو خدا کا یہی قانون ہے کہ فِيْمَا تَحْيَونَ وَفِيهَا تمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (اعراف:۲۶) اسی (زمین) میں تم زندہ رہو گے اور اسی میں تم مرو گے اور اسی میں سے تم نکالے جاؤ گے۔اس قانون کے ہوتے ہوئے کسی فرد بشر کا آسمان پر جانا کیسے ممکن ہے؟ اگر کوئی وجود اپنی خوبیوں اور اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے زندہ رکھے جانے کے قابل ہوسکتا تھا تو وہ ہمارے آقاسید و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔بدنیا گر کے پائندہ بودے ابوالقاسم محمد زنده بودے خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ آفَائِن مَتَّ فَهُمُ الْخَلِدُونَ ( انبياء: ۳۵) اور ہم نے کسی انسان کو تجھ سے پہلے غیر طبعی عمر نہیں بخشی۔کیا اگر تو مر جائے تو وہ غیر طبعی عمر تک زندہ رہیں گے۔