دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 171 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 171

171 کا اعلیٰ مقام حاصل تھا۔دعاؤں سے ہر وقت کام لیتے تھے۔جہاں جاتے غیب سے آپ کے لئے سہولت کے سامان پیدا ہو جاتے اور لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے۔ایک مرتبہ ایک رئیس زادہ کا علاج کیا تو اس نے اس قدر روپیہ دیا کہ آپ پر حج فرض ہو گیا۔چنانچہ آپ مکہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کیلئے تشریف لے گئے۔حج بھی کیا اور وہاں کئی اکابر علماء فضلاء سے حدیث پڑھی۔اس وقت آپ کی عمر ۲۴ ۲۵ برس تھی۔بلا دعرب و ہند سے واپس آ کر بھیرہ میں درس و تدریس اور مطب کا آغاز کیا۔مطب کی شان یہ تھی کہ مریضوں کے لئے نسخے لکھنے کے دوران احادیث وغیرہ بھی پڑھاتے۔۱۸۷۷ء میں لارڈ لٹن وائسرائے ہند کے دربار میں شرکت کی کچھ عرصہ بھوپال میں قیام کیا۔پھر ریاست جموں و کشمیر میں ۱۸۷۶ء سے۱۸۹۲ء تک شاہی طبیب رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت گورداسپور کے ایک شخص کے ذریعہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غائبانہ تعارف ہوا اور حضور کا ایک اشتہار بھی نظر سے گذرا۔مارچ ۱۸۸۵ء میں قادیان پہنچ کر حضور علیہ السلام سے ملاقات کی۔اس وقت حضور نے نہ کوئی دعویٰ کیا تھا نہ بیعت لیتے تھے۔تا ہم فراست صدیقی سے آپ نے حضور کو شناخت کیا اور حضور کے گرویدہ ہو گئے۔حضور کے ارشاد پر آپ نے پادری تھامس ہاول کے اعتراضات کے جواب میں کتاب فصل الخطاب اور پنڈت