دینی نصاب — Page 64
ہے۔اللہ تعالیٰ کا صاف ارشاد ہے:۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا نہیں چاہتا۔پس محض نام ونمود کیلئے بڑے بڑے مہر نہیں رکھنے چاہئیں۔حضرت خلیفۃ لمسیح الثانی ارشادفرمایا کرتے تھے کہ چھ ماہ سے لیکر ایک سال کی آمدنی کے برابر مہر رکھا جاسکتا ہے۔مهر بخشوانا : ہمارے ملک میں عورت بڑی مظلوم ہے اس کا حق مہر ادا نہیں کیا جا تا بلکہ کئی دفعہ مرتے وقت عورتوں سے بخشوالیا جاتا ہے۔عورت بھی جانتی ہے کہ مہر ملنا تو ہے نہیں اس لئے وہ مفت کا احسان خاوند پر کر دیتی ہے۔ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ حضور ایک عورت اپنا مہر نہیں بخشتی۔آپ نے فرمایا:۔یہ عورت کا حق ہے اسے دینا چاہیئے۔اوّل تو نکاح کے وقت ہی ادا کر دے ور نہ بعد ازاں ادا کر دینا چاہئیے۔موٹر سکوٹر ، بھاری جہیز کا مطالبہ : ( ملفوظات جلد ششم صفحه ۳۹۱) آج کل تعلیم یافتہ طبقہ میں یہ ایک رسم ہوگئی ہے کہ لڑکی والوں سے موٹر یا سکوٹر کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا بھاری جہیز کی خواہش کی جاتی ہے یہ سب رسوم ہیں۔لڑکی والوں پر غیر ضروری یہ بوجھ ڈالنا غیر اسلامی طریق ہے۔یہ ایک لحاظ سے شادی کی قیمت طلب کی جاتی ہے جو بالکل ناواجب اور غیر پسندیدہ ہے۔مہندی کی رسم : حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔64