دینی نصاب — Page 57
۱۲۔کسی کو کوئی چیز اُدھار ایک قیمت پر دینا پھر وہی چیز اس سے نقد کم قیمت پر خریدنا۔مثلاً سو روپیہ کو فروخت کر دی اور ۹۵ کو خرید لی۔اور ۵ روپے اس کے ذمہ قرار دیدیئے۔۱۳ - خریدنے کا ارادہ نہ ہومگر اس کی قیمت بڑھانے کیلئے بولی دینا۔۱۴۔خریدار کے سودے پر سودا کرنا۔یہ سب منع ہیں۔شفعہ اگر کوئی شخص اپنی جائیداد فروخت کرے تو اُس پر فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے اس شخص کے پاس فروخت کرے جس کے ساتھ وہ ملحق ہے۔اگر وہ نہ خریدے یا قیمت کم دے۔تو پھر اسے اختیار ہے کہ کسی دوسرے شخص کے پاس فروخت کر دے۔لیکن اگر اس سے دریافت کرنے کے بغیر کسی دوسرے کے پاس فروخت کر دے تو اس کا حق ہے (جس کے ساتھ جائیداد حق ہے ) کہ وہ قضاء میں حق شفعہ کا دعوی کرے کہ چونکہ یہ جائیداد میرے ساتھ ملحق ہے لہذا میرا حق ہے کہ یہ میرے پاس فروخت کی جائے۔اگر وہ فی الواقعہ اس کے ساتھ ملحق ہو اور وہ اس قدر قیمت دے جس قدر قیمت پر وہ فروخت ہو چکی ہے۔تو قاضی اس کے حق میں فیصلہ دے گا۔اور قیمت خریدار صاحب جائیداد ( جس کے پاس بھی وہ جائیدا اُس وقت ہو ) کو دلا کر جائیداد اس کے حوالے کر دے گا۔لیکن اگر یہ خود خریدنا نہ چاہتا ہو یا قیمت کم دیتا ہو تو پھر مالک کا اختیار ہے کہ وہ جس کے پاس چاہے فروخت کرے۔اس صورت میں حق شفعہ کا دعویٰ نہیں ہوسکتا۔وراثت ہ شخص جس وقت فوت ہوتا ہے تو وہ اپنے پیچھے اپنا مال وجائیداد وغیرہ چھوڑ جاتا ہے۔اس مال کو تر کہ کہتے ہیں۔شریعت نے حکم دیا ہے کہ سب سے پہلے متوفی کے ترکہ میں سے اگر اس نے کسی کا قرضہ 57