دینی نصاب

by Other Authors

Page 58 of 377

دینی نصاب — Page 58

دینا ہو۔یا کسی کے حق میں وصیت کی ہو تو ان کو ادا کیا جائے۔ان ہر دو کی ادائیگی کے بعد اگر کوئی مال بچے۔تو وہ اس کے قریبی رشتہ داروں میں جنہیں شریعت نے وارث قرار دیا ہے۔شریعت کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تقسیم کیا جائے۔اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا مال بیت المال میں جمع کرا دیا جائے۔ذیل میں وہ رشتہ دار درج کئے جاتے ہیں۔جو متوفی کے وارث ہوتے ہیں:۔(۱) بیٹا (۲) پوتا (۳) باپ (۴) دادا (۵) بھائی (۶) بھتیجا (۷) چا (۸) چچازاد بھائی (۹) خاوند (۱۰) بیٹی (۱۱) پوتی (۱۲) ماں (۱۳) دادی۔(۱۴) بہن (۱۵) بیوی (۱) قاتل کسی صورت میں بھی مقتول کے ورثہ کا حقدار نہ ہوگا۔وارثوں میں سے ہر ایک کو مندرجہ ذیل حصوں میں سے مختلف صورتوں کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی حصہ ملے گا:۔نصف۔دو تہائی۔ایک تہائی۔چوتھا حصہ۔چھٹا حصہ۔آٹھواں حصہ۔58۔۔۔۔۔۔۔