دینی نصاب

by Other Authors

Page 39 of 377

دینی نصاب — Page 39

تو اس وقت اُسے اجازت حاصل کر کے اندر آنے کی تعلیم دینی چاہئیے یعنی ماں باپ کے پاس جب ان تینوں وقتوں میں آئے تو اجازت لے کر آئے (الف) صبح کی نماز سے پہلے (ب) عشاء کی نماز کے بعد (ج) عین دو پہر کے وقت جب وہ آرام کرتے ہیں۔جب بچہ بالغ ہو جائے تو پھر اُسے ہر وقت گھر میں اجازت لے کر آنا چاہیئے۔(۳) نماز کی تلقین : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب بچے کی عمر سات سال کی ہو تو اُسے نماز پڑھنے کی ترغیب دی جائے۔اس سے ظاہر ہے کہ بچے کو سات برس کی عمر تک پہنچنے سے پہلے نماز یاد نہ ہو تو یاد کرا دینی چاہیئے کیونکہ اگر بچہ کو نماز یاد نہ ہوگی تو اُسے نماز ادا کرنے کی ترغیب کیونکر دی جائے گی۔جب بچہ دس سال کا ہو تو اُسے نماز ادا کرنے کی سخت تاکید کی جائے یہاں تک کہ اُسے نماز ادانہ کرنے پر مارنے کا بھی حکم ہے۔ماں باپ کیلئے ضروری باتیں : ا۔بچے کو جھوٹے وعدہ نہ دیئے جائیں جو بعد میں پورے نہ کئے جاسکتے ہوں۔۲- اگر بچہ امانت کے طور پر کوئی چیز رکھوائے تو اسی طرح اس کو واپس کی جائے۔۳۔بچہ کے سامنے ماں باپ کو لڑائی جھگڑا یا بے حیائی کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔اول تو بچہ کی غیر موجودگی میں بھی ہر صورت میں پر ہیز کرنا چاہیئے۔خلاصہ یہ کہ ماں باپ یا مربیان کو چاہیے کہ ہر کام یا بات کے کرنے سے پہلے یہ اچھی طرح سوچ لیں کہ اس کام یا بات کا بچے کے اخلاق پر کیا اثر پڑے گا۔نکاح : نکاح کرنا سنت ہے۔جو شخص نکاح کی طاقت رکھنے کے باوجود نکاح نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ 39