دینی نصاب — Page 31
روزے کے احکام : ۱ - ماہِ رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر بالغ مومن مرد و عورت پر فرض کئے گئے ہیں۔ایک دن کا روزہ بھی عملاً بلا کسی شرعی عذر کے ترک کر نا بڑا گناہ ہے جس کی تلافی عمر بھر روزے رکھ کر بھی نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ ندامت کا احساس اور تو بہ واستغفار نہ ہو۔جو شخص مسافر ہو یا بیمار ہو اس کیلئے رخصت ہے۔وہ دوسرے دنوں میں روزے ۲۔پورے کرے۔جو دائم المرض ہو یا بہت بوڑھا اور ضعیف ہو گیا ہو اس پر روزہ فرض نہیں وہ بطور فدیہ ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے۔۔جو عورت حاملہ ہو یا بچے کو دودھ پلاتی ہو اس پر روزہ فرض نہیں وہ بطور فدیہ ایک مسکین کو ہر روز کھانا کھلائے۔۴۔بھولے سے اگر کوئی چیز کھالی جائے یا پی لی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن اگر عمداً بنا شرعی عذر مثلاً بیماری یا سفر روزہ توڑ دیا جائے تو ایسے شخص کا کفارہ یہ ہے کہ وہ ساٹھ دن مسلسل روزے رکھے۔اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔۵- روزہ کا وقت صبح صادق سے شروع ہو کر غروب آفتاب تک ہوتا ہے۔- اگر کسی شخص کو سحری کے وقت کھانا کھانے کا موقعہ نہیں ملاتو وہ اس عذر کی وجہ سے روزہ نہیں چھوڑ سکتا۔سحری کا کھانا روزہ کیلئے شرط نہیں ہے۔ے۔مرض اور سفر کی حد شریعت نے مقرر نہیں کی۔اس کا انحصار ہر شخص کی حالت پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعامل سے سفر کی حد گیارہ میل معلوم ہوتی ہے اور مرض کی حد یہ ہے کہ جس سے سارے بدن میں تکلیف ہو یا کسی ایسے عضو میں تکلیف ہوجس سے سارا جسم بے قرار ہو جائے۔جیسے بخار یا آنکھ کا درد۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ روزہ دار کی آنکھ میں تکلیف ہو تو دوائی ڈالنا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا: 31