دینی نصاب — Page 256
اور وہاں کئی اکا بر علماء فضلاء سے حدیث پڑھی۔اس وقت آپ کی عمر ۲۴۔۲۵ برس تھی۔بلا دعرب سے ہندواپس آکر بھیرہ میں درس و تدریس اور مطب کا آغاز کیا۔مطب کی شان ی تھی کہ مریضوں کیلئے نسخے لکھنے کے دوران احادیث وغیرہ بھی پڑھاتے۔۸۷۷اء میں لارڈ لٹن وائسرائے ہند کے دربار میں شرکت کی کچھ عرصہ بھوپال میں قیام کیا۔پھر ریاست جموں و کشمیر میں ۱۸۷۶ء سے ۱۸۹۲ ء تک شاہی طبیب رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت گورداسپور کے ایک شخص کے ذریعہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غائبانہ تعارف ہوا۔اور حضور کا ایک اشتہار بھی نظر سے گذرا۔مارچ ۱۸۸۵ء میں قادیان پہنچ کر حضور سے ملاقات کی۔اس وقت حضور نے نہ کوئی دعویٰ کیا تھا نہ بیعت لیتے تھے تاہم فراست صدیقی سے آپ نے حضور کو شناخت کیا اور حضور کے گرویدہ ہو گئے۔حضور کے ارشاد پر آپ نے پادری تھامس ہاول کے اعتراضات کے جواب میں کتاب فصل الخطاب اور پنڈت لیکھرام کی کتاب تکذیب براہین احمدیہ کے جواب میں تصدیق براہین احمدیہ تصنیف فرمائیں۔۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ میں جب لدھیانہ میں بیعت اولی ہوئی تو سب سے اول آپ نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ستمبر ۱۸۹۲ء میں ریاست کشمیر سے آپ کا تعلق منقطع ہو گیا تو بھیرہ میں مطب جاری کرنے کیلئے ایک بڑا مکان تعمیر کرایا۔ابھی وہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے بموجب قادیان میں دھونی رما کر بیٹھ رہے۔قادیان میں ایک مکان بنوا کر اس میں مطب شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دربار شام میں نیز سیر و سفر میں ہمرکاب رہتے۔حضور کی مقدس اولا دکو قرآن وحدیث پڑھاتے۔صبح سویرے بیماروں کو دیکھتے پھر طالب علموں کو درس حدیث دیتے اور طب پڑھاتے۔بعد نماز عصر روزانہ درس قرآن کریم دیتے۔عورتوں میں بھی درس ہوتا۔مسجد اقصیٰ میں پنجوقتہ نماز 256