دینی نصاب

by Other Authors

Page 164 of 377

دینی نصاب — Page 164

اس کی آواز دُور دُور تک پہنچے گی اور اس کی روشنی جلد جلد دنیا میں پھیل جائے گی۔جیسا کہ منارہ کی خاصیت ہے۔گویا کہ مراد یہ نہیں کہ مسیح موعود کا نزول منارہ کے اوپر ہوگا بلکہ مراد یہ ہے کہ مسیح موعود اس حالت میں مبعوث ہوگا کہ سفید منارہ اس کے پاس ہوگا۔یعنی اشاعت دین کے بہترین ذرائع اُسے میسر ہونگے اور ان معنوں میں مشرق کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ مسیح موعود کا سورج اپنے افق مشرق سے بہترین حالات کے ماتحت طلوع کریگا اور اس کی کرنیں جلد جلد اکناف عالم میں پھیل جائیں گی۔نیز منارے کے لفظ سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ جس طرح ایک چیز جو بلندی پر ہو وہ سب کو نظر آجاتی ہے اور دُور دُور کے رہنے والے بھی اسے دیکھ لیتے ہیں اسی طرح مسیح موعود کا قدم بھی ایک منارہ پر ہو گا اور وہ ایسے روشن اور بین دلائل کے ساتھ ظاہر ہوگا کہ اگر لوگ خودا پنی آنکھیں نہ بند کر لیں اور اس کی روشنی کو دیکھنے سے منہ نہ پھیر لیں تو وہ ضرور تمام دیکھنے والوں کو نظر آجائے گا کیونکہ وہ ایک بلند مقام پر ہوگا۔پس یہ پیشگوئی استعارہ میں ایک نہایت لطیف کلام پر مشتمل ہے جس کی حقیقت کو سمجھا نہیں گیا۔منارہ کے ساتھ سفید کا لفظ بڑھانے میں بھی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ گو ہر منارہ دُور سے نظر آتا ہے لیکن اگر وہ سفید ہوتو پھر تو خصوصیت کے ساتھ وہ زیادہ چمکتا اور دیکھنے والوں کی نظر کو اپنی طرف زیادہ کھینچتا ہے یا سفید کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسیح موعود کی بلندی بے عیب ہوگی یعنی یہ نہیں ہو گا کہ وہ کسی دنیاوی وجاہت وغیرہ سے ایک بلند مقام پر ہوگا بلکہ اُس کی بلندی خالص طور پر روحانی ہوگی اور اسی مقدس صورت میں وہ لوگوں کو نظر آئے گا بشرطیکہ لوگ تعصب اور ظلمت پسندی کی وجہ سے اپنی آنکھیں خود نہ بند کر لیں۔اس کی ظاہر مثال یوں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی کوٹھڑی کی کھڑکیاں بند کر کے اندر بیٹھ جائے تو باوجود اس کے کہ سورج چڑھا ہوا ہو اس کے کمرہ کے اندر اندھیرا ہی رہے گا۔مگر اس میں سورج کا کوئی قصور نہیں۔اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے دل کی کھڑکیاں بند کر لے تو روحانی سورج اُسے کس طرح روشنی پہنچا سکتا ہے؟ حضرت مرزا صاحب 164