دینی نصاب — Page 163
تھا وہ ہو چکا۔ہاں تمہارے دماغوں میں جہالت اور خود پسندی کا ایک دابہ ضرور مخفی ہے جو تمہیں کھا رہا ہے خدا کرے کہ وہ بھی خروج کرے تا تمہیں کچھ چین آوے۔آٹھویں علامت آٹھویں علامت یہ ہے کہ مسیح موعود دمشق کے شرقی طرف ایک سفید منارے کے پاس نازل ہوگا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِ دِمَشْقَ - ( کنز العمال جلدے) یعنی در مسیح موعود دمشق کے مشرقی جانب سفید منارہ کے پاس نازل ہوگا۔اس علامت کے متعلق پہلے یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل نہیں ہوگا بلکہ وہ اسی امت کا ایک فرد ہے۔پس منارہ پر نازل ہونے کے یہ معنے نہیں ہو سکتے که مسیح موعود واقعی آسمان کی طرف سے کسی مناہ پر نازل ہوگا اور پھر منارہ سے نیچے اُتر یگا۔دوسرے یہ کہ اس حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ منارہ کے اوپر سے اترے گا بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ منارہ کے پاس اُترے گا۔یعنی وہ ایسی حالت میں اتریگا کہ سفید منارہ اس کے پاس ہوگا اور ان دونوں میں بھاری فرق ہے۔اسکے بعد جاننا چاہئیے کہ قادیان صوبہ پنجاب ملک ہند جو حضرت مرزا صاحب کا وطن ہے ٹھیک دمشق کے مشرق میں واقع ہے۔یعنی وہ دمشق کے عین مشرق کی طرف اسی عرض بلد میں واقع ہے جس میں کہ دمشق ہے۔پس دمشق کے مشرق والی بات میں تو کوئی اشکال نہ ہوا۔اب رہا منارہ کا لفظ سو اس سے مراد یہ ہے کہ مسیح موعود کا نزول ایسے زمانہ میں ہوگا کہ اس وقت وسائل رسل و رسائل اور میل جول کی کثرت یعنی انتظام ریل و جہاز و ڈاک و تار و مطبع وغیرہ کی وجہ سے تبلیغ و اشاعت کا کام ایسا آسمان ہوگا کہ گو یا شخص ایک منارہ پر کھڑا ہوگا اور یہ کہ 163