دینی نصاب — Page 155
برتن کی طرف دوسروں کو دعوت دیتا ہے یعنی تم دوسروں کی خوراک بن جاؤ گے اور وہ ایک دوسرے کو تم پر دعوت دینگے۔ایک شخص نے عرض کیا۔یا رسول اللہ۔کیا ہم اس دن تھوڑے ہوں گے؟ اور اس قلت کی وجہ سے ہمارا یہ حال ہوگا ؟ فرمایا نہیں بلکہ تم اس دن کثیر ہو گے لیکن تم اس جھاگ کی طرح ہو گے جو سیلاب کے بعد ایک برساتی نالے کے کنارے پر پائی جاتی ہے۔یعنی نہایت درجہ رڈی اور غیر مفید حالت میں ہو گے اور اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رُعب مٹا دیگا اور تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دیگا۔عرض کیا گیا کہ کمزوری سے کیا مراد ہے؟ فرمایا۔دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔یعنی بزدلی کیوجہ سے نیک کاموں سے رُک جانا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ میرے بعد ایک زمانہ میں ایسے علماء پیدا ہوں گے جو میری ہدایت سے ہدایت نہ پائیں گے اور میری سنت پر کار بند نہ ہوں گے اور میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہونگے گوجسم انسانوں کے سے ہوں گے اور ایک روایت اس طرح پر آئی ہے کہ میری امت کے علماء کی یہ حالت ہوگی کہ وہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ علم اُٹھ جائے گا اور جہالت کی کثرت ہوگی اور زنا اور شراب خوری کی بھی کثرت ہوگی اور ایک روایت میں یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت ایسی ہوگی کہ تعداد میں تو کثرت ہوگی مگر دل ٹیڑھے ہو نگے۔یعنی نہ ایمان درست ہوگا اور نہ اعمال۔اور ایک روایت اس طرح پر آئی ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائے گی جو سب آگ کے رستہ پر ہونگے سوائے ایک کے اور وہ جماعت والا فرقہ ہوگا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا لیکن اگر وہ ثریا پر بھی چلا گیا یعنی دنیا سے بالکل ہی مفقود ہو گیا تو پھر بھی ایک فارسی الاصل شخص اُسے واپس اُتار لائے گا“۔یہ وہ نقشہ ہے جو سرور کائنات نے اپنی امت کے اس آخری گروہ کا کھینچا ہے جس میں مسیح موعود کی بعثت مقدر ہے اب ناظرین خود دیکھ لیں کہ آیا اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اس 155