دینی نصاب — Page 115
کی ضرورت باقی نہیں چھوڑتے تو اب شبہ کی کیا گنجائش رہی ؟ مگر ایک شبہ ضرور باقی رہتا ہے کہ جب مسیح موعود نے اسی امت میں سے ہونا تھا تو پھر اس کے متعلق نزول اور ابن مریم کے الفاظ کیوں استعمال کئے گئے؟ نزول کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا اور مسیح ناصری خود بنفس نفیس تشریف لائیں گے۔سو اس کے لئے کسی مرفوع متصل صحیح حدیث میں نزول کے ساتھ سماء کا لفظ استعمال نہیں ہوا کہ تا آسمان سے اترنے کے معنے لئے جائیں۔علاوہ ازیں نزول کے معنوں پر غور نہیں کیا گیا۔عربی میں نزول کے معنے ظاہر ہونے اور آنے کے بھی ہیں۔مثلاً قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : - قَد أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آیت الله ( سورۃ طلاق رکوع ۲) یعنی اللہ نے تمہاری طرف ایک یاد کرانے والا رسول اتارا ہے جو تم پر اللہ کی آیات پڑھتا ہے۔اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔حالانکہ سب جانتے ہیں کہ آپ آسمان سے نہیں اترے تھے۔بلکہ اسی زمین میں پیدا ہوئے تھے۔پھر قرآن شریف فرماتا ہے: وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ( سورۃ الحدید رکوع ۳) یعنی ”ہم نے لوہا اُتارا ہے جس میں لڑائی کا بڑا سامان ہے اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔لیجئے لوہا بھی آسمان سے اتر رہا ہے! ان آیات سے ظاہر ہے کہ لفظ نزول کے معنے ہمیشہ لفظی طور پر اور اوپر سے اُترنے کے نہیں ہوتے بلکہ اکثر دفعہ نزول کا لفظ اس چیز کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے جو خدا کی طرف سے بنی نوع انسان کو بطور ایک نعمت اور رحمت کے دی جاتی ہے۔پس لفظ نزول سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا ایک سخت غلطی ہے۔پھر کیا ناظرین نے یہ نہیں سنا کہ عربی میں مسافر کو نزیل کہتے ہیں اور جس جگہ قیام کیا جاوے وہ منزل کہلاتی ہے۔علاوہ ازیں بعض احادیث میں مسیح کے متعلق بعث اور خروج کے الفاظ بھی آئے ہیں۔پس اس صورت میں جو مفہوم بعث اور خروج اور نزول کے درمیان مشترک ہے وہی مقصود سمجھا جائے گا۔115