دینی نصاب

by Other Authors

Page 114 of 377

دینی نصاب — Page 114

یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کا رنگ گندم گوں ہوگا اور بال سیدھے اور لمبے ہونگے۔دونوں خُلیوں میں فرق ظاہر ہے کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔کہاں سُرخ رنگ اور کہاں گندم گوں۔پھر کہاں گھنگھرالے بال اور کہاں سیدھے اور لمبے۔اس سے زیادہ وضاحت کیا ہوگی۔دونوں مسیحوں کی تصویریں ناظرین کے سامنے رکھ دی گئی ہیں اور یہ تصویریں بھی حضرت افضل الرسل خاتم التنبيتين صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی کھینچی ہوئی ہیں۔ناظرین خود فیصلہ کر لیں کہ کیا ان دونوں تصویروں میں ایک آدمی کی شکل نظر آتی ہے؟ جسے خدا نے آنکھیں دی ہوں وہ تو ہر گز دونوں کو ایک نہیں کہہ سکتا۔حضرت مرزا صاحب کیا خوب فرماتے ہیں کہ : موعودم و بحلیہ ماثور آمدم حیف است گربدیده نه بیند منظرم رنگم چوں گندم است و بهمو فرق بین است زانسان که آمد است در اخبار سرورم ایں مقدمم نہ جائے شکوک است والتباس سید جدا کند ز مسیحائے احمرم یعنی ” میں ہی مسیح موعود ہوں اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے حلیہ کے مطابق آیا ہوں تو اب افسوس ہے اس آنکھ پر جو مجھے نہیں پہچانتی۔میرا رنگ گندم گوں ہے اور بالوں میں بھی مجھے اس شخص سے کھلا کھلا امتیاز حاصل ہے جس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں آتا ہے۔سواب میرے معاملہ میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی کیونکہ ہمارے آقا سردار نے خود مجھے سرخ رنگ والے مسیح سے جدا کر دیا ہے۔“ نزول کی حقیقت : مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی ہے کہ آنے والا مسیح گذشتہ مسیح ناصرتی سے بالکل الگ شخصیت رکھتا ہے۔دیکھو قرآن گواہی دے رہا ہے کہ اسلام کے تمام خلفاء مسلمانوں میں سے ہونگے۔حدیث بیان کر رہی ہے کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ایک فرد ہے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو مسیحوں کے الگ الگ فوٹو ہمارے سامنے رکھ کر کسی مزید تشریح 114