دینی نصاب

by Other Authors

Page 93 of 377

دینی نصاب — Page 93

میں تجھے یہود کے الزامات سے پاک ٹھہراؤں گا۔۴۔میں تیرے ماننے والوں کو انکار کرنے والوں پر قیامت تک غلبہ عطا کروں گا۔یعنی عیسائی ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔یہ چاروں وعدے خُدائے تعالیٰ نے اسی ترتیب سے پورے کر دیئے۔پہلے وفات دی پھرانجام بخیر کر کے اپنے حضور میں ان کو عزت بخشی اور ان کے درجات بلند کئے۔یہود کے تمام الزامات سے ان کو پاک ٹھہرایا۔اور ان کے ماننے والوں کو آج تک یہود پر غالب رکھا اور آئندہ بھی قیامت تک یہودی مغلوب رہیں گے۔اس آیت میں رَافِعُكَ إِلَی کے یہ معنی کرنے کہ میں تجھے اُٹھا کر آسمان پر لے جاؤں گا صراحتاً غلط ہیں۔اوّل تو آسمان کا کہیں ذکر ہی نہیں۔دوسرے اگر رفع کے معنی اٹھانے کے ہی کئے جائیں ( جو اس جگہ بالکل بے جوڑ ہوں گے ) تب بھی لفظی معنی صرف یہ ہوں گے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔اب خدا کی کوئی جہت نہیں۔وہ ہر طرف اور ہر جگہ ہے۔اُوپر کی طرف اُٹھائے جانے کی تخصیص کیوں کی جائے۔اگر اوپر کی طرف اُٹھانے کے ہی معنی کئے جائیں۔تب بھی قرآنی محاورہ کے مطابق اس کا مطلب عزت بخشنا ہی ہوگا۔جیسا کہ حضرت اور بیس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے -: وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّاه (مریم: ۵۸) ہم نے اُسے نہایت بلند مقام تک اٹھایا تھا یعنی بڑا رتبہ عطا کیا تھا اور عزت بخشی تھی۔کیا یہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت ادریس علیہ السلام بھی آسمان پر چلے گئے؟ اس کے علاوہ قرآن کریم نے وفات کا ذکر پہلے کیا ہے اور اٹھانے کا ذکر بعد میں۔اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے اور وہاں زندہ ہیں کسی وقت دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے اور پھر وفات پائیں گے تو ترتیب بدل جاتی ہے۔اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ جس ترتیب سے واقعات کا ذکر قرآن کریم 93