دینی نصاب — Page x
کرتا ہے۔اس لئے ایسی تربیت گاہیں کھولنی ضروری ہیں جو تمام سال کام کرتی رہیں اور نئے آنے والوں کو دین کی باتیں اس حد تک سمجھا دیں کہ شیطان ان کو پھسلا نہ سکے اور جب وہ واپس جائیں تو نذیر بن کر جائیں ان نئے آنے والوں کو ایسے مراکز میں بلاؤ جہاں دین کی تعلیم دی جارہی ہو تفقہ فی الدین ہو اور اس حد تک ان کو دین سے آگاہ کر دو کہ ان کے اندر دین کا ولولہ پیدا ہو جائے۔وہ شاگرد کے طور پر ہی نہ بیٹھے رہیں بلکہ استاد بن کر جلد واپس جا کر اپنی قوم کو ڈرائیں ( ہوشیار کریں) خطبه جمعه فرموده ۱۹ / اگست ۱۹۹۴ء) اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرکز احمدیت قادیان میں دینی علوم سے آراستہ کرنے کیلئے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کی قائم کردہ مبارک درسگاہ جامعہ احمدیہ کے نام سے قائم ہے۔چونکہ ہر داعی الی اللہ کیلئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ قادیان آ کر سات سال کا کورس پڑھ کر با قاعده مبلغ بن کر خدمت دین کا حق ادا کر سکے اور دوسری طرف کثرت سے ایسے داعیین الی اللہ کی ضرورت ہے جو ابتدائی معلومات اور بنیادی تعلیم سے واقفیت حاصل کر کے تبلیغ اور تربیت کے کاموں میں مشغول ہو جا ئیں ایسے داعین الی اللہ تیار کرنے کیلئے مجلس مشاورت بھارت منعقدہ دسمبر ۱۹۹۸ء میں یہ تجویز پیش ہوئی تھی کہ ایک ایسا مختصر نصاب تیار کیا جائے جس کو ہر صوبہ کے اندرونی تربیتی مراکز میں داعین الی اللہ کو بلا کر پڑھا دیا جائے تا کہ جہاں وہ خود احمدیت حقیقی اسلام کی ابتدائی تعلیمات سے واقف ہو جا ئیں وہاں اپنے اپنے علاقوں میں تبلیغ و تربیت کے کاموں کو سنبھالنے کے قابل ہو جائیں۔چنانچہ سلسلہ احمدیہ کی مختلف کتب انصار اللہ کا بنیادی نصاب تبلیغ ہدایت از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب وغیرہ کی مدد سے ایک مختصر نصاب 1999 میں تیار کر کے شائع کیا گیا جس میں (ج)