دینی نصاب — Page 85
زیادہ محفوظ تھا۔بہر حال ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئیے کہ وہ دینی احکام پر عمل کرے۔( چہرے کا پردہ کرے ) اور اگر کہیں اس پر کمزوری پائی جاتی ہو تو اُسے دُور کرے۔“ (الفضل ۱٫۵ پریل ۱۹۶۰ء) سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی -: جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے۔منہ سے کپڑا اُٹھانا یا مکسڈ (MIXED) پارٹیوں میں جانا اور ان کا مردوں سے بے تکلفی کے ساتھ باتیں کرنا یہ نا جائز ہے۔“۔۔۔۔۔دوو ( تفسیر کبیر جلد ششم سورۃ نور صفحه ۳۰۴ آیت نمبر ۳۲) ”خُمر سے مراد سر کا رومال یا کپڑا ہے۔دوپٹہ مراد نہیں اور اس کے معنی یہی ہیں کہ سر سے رومال کو اتنا نیچا کرو کہ وہ سینہ تک آجائے اور سامنے سے آنے والے کو منہ نظرنہ آئے یہ ہدایت بتا رہی ہے کہ عورت کا منہ پردہ میں شامل ہے۔آنحضور سلیم اور صحابہ و صحابیات بھی چہرے کو پردہ میں شامل سمجھتے تھے۔آنحضور کا ایک رشتہ کی غرض سے ایک صحابیہ ام سلیم کو بھجوانا بتاتا ہے کہ چہرہ کا پردہ تھا۔اسی طرح ایک رشتہ کے سلسلہ میں والد نے لڑکی کا چہرہ دکھانے سے انکار کر دیا تو حضور کے ارشاد پر بچی خود سامنے آگئی۔اگر وہ لڑکی کھلے منہ پھرا کرتی تھی تو اس نوجوان کو بچی کے باپ سے چہرہ دکھانے کی درخواست کی کیا ضرورت تھی۔قرآن نے زینت چھپانے کا حکم دیا ہے اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہے اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے جس کو چھپانے کا حکم ہے۔“ (خلاصه از تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۳۰۰،۲۹۹ سوره نور ) فرمایا۔” پردہ چھوڑنے والا قرآن کی ہتک کرتا ہے ایسے انسان سے ہمارا کیا 85